ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی

وائٹ ہاؤس نے کارروائی کو جانبدار، غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دے کر انکوائری میں تعاون کرنے سے انکار کردیا

بدھ اکتوبر 22:51

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 اکتوبر2019ء) وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کو جانبدار، غیرقانونی اور غیر آئینی قرار دے کر انکوائری میں تعاون کرنے سے انکار کردیا۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ایک مراسلے میں امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کو چینلج کیا گیا کہ امریکی صدر کے خلاف انکوائری میں معمولی تعاون بھی نہیں کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کے قونصل پٹ سیپولین نے 8 صفحات پر مشتمل ایک مراسلہ تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ ’آپ 2016 کے انتخابات سے منتخب ہونے والی امریکی صدر کو برطرف کرنے اور عوام کو ان کے صدر سے محروم کرنے کے لیے کوشاں ہیں'۔انہوں نے کہا کہ آپ کی انکوائری آئینی بنیادوں سے محروم اور غیرقانونی ہے۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے ڈیموکریٹک حریف اور نائب صدر جو بائیڈن کو نقصان پہنچانے کے لیے یوکرین کے صدر سے مدد طلب کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

(جاری ہے)

مراسلہ میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتظامیہ کو جانبدار انکوائری کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے مراسلے کو ’غلط نشاندہی‘ قرار دیا اور کہا کہ ’یہ غیرقانونی اقدامات حقائق کو چھپانے کی کوشش ہے‘۔انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرکے کہا کہ ’جناب صدر، آپ قانون سے بالاتر نہیں ہیں، آپ کا بھی احتساب ہوگا‘۔نینسی پیلوسی نے خبردار کیا کہ ’مواخذے کی انکوائری میں حقائق امریکی عوام سے چھپانے کا رویہ آئندہ کے لیے تباہ کن ہوگا‘۔واضح رہے کہ امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی تحقیقات میں ایک اور مخبر سامنے آگیا جس کے بعد ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔