پاکستان کے پاس 140 جبکہ بھارت کے پاس 150 ایٹم بم ہیں

لیکن پاکستان کے پاس ایک ایسی چیز موجود ہے جس نے ابھی تک بھارت کو لگام ڈال رکھی ہے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات اکتوبر 13:31

پاکستان کے پاس 140 جبکہ بھارت کے پاس 150 ایٹم بم ہیں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10 اکتوبر 2019ء) : پاکستان اس وقت ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان کے پاس موجود ایٹمی قوت کی وجہ سے ہی آج تک کوئی ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت نہیں کر سکا۔ اس حوالے سے سینئیر صحافی اوریا مقبول جان نے اپنے حالیہ کالم میں کہا کہ جس دن سے عمران خان اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے آخری فقرہ یہ کہہ کر واپس پلٹا ہے کہ “یاد رکھو دو ایٹمی قوتیں جب ٹکراتی ہیں تو اثرات دور تک جا پہنچتے ہیں”، اس دن سے صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ سنجیدہ حلقوں کے ترجمان سائنسی رسالے بھی اس قیامت خیز دن کا منظر پیش کر رہے ہیں، جس دن اگر کسی اچانک تیزوتند حادثے کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ میں ایٹم بم استعمال ہوگیا تو پھر دنیا پر کیا بیتے گی۔

انسانوں کی اموات کا تذکرہ تو اب بے معنی سا ہو کر رہ گیا ہے، کہ مرنے والے تو پاکستان اور بھارت کے شہروں سے تعلق رکھتے ہوں گے۔

(جاری ہے)

اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر ان دونوں ملکوں نے اپنے ایٹمی ہتھیار استعمال کر لیے تو اسکے بعد باقی ماندہ اور بظاہر “پرامن” اور ظلم پر بدترین خاموشی اختیار کرنے والی دنیا پر کیا بیتے گی۔ اوریا مقبول جان نے کہا کہ او بی ٹون (OB Toon) کی مشہور تحقیق کے مطابق اگر دونوں ممالک اپنے پاس موجود تین سو ایٹم بموں میں سے صرف پچاس بم جو K.T 15 طاقت کے ہوں، ایک دوسرے کے شہروں پر چلا دیں تو چشم زدن میں ڈھائی کروڑ لوگ مر جائیں گے اور پانچ کروڑ ایسے زخمی اور بیمار ہوں گے کہ ازیت ناک موت کا انتظار کریں گے۔

اس وقت پوری دنیا کے ایٹمی قوت رکھنے والے ملکوں کے پاس 13,900 ایٹم بم ہیں جن میں سے پاکستان کے پاس 140 اور بھارت کے پاس 150 بم ہیں۔ جبکہ پاکستان نے چھوٹے سائز کے شاطرانہ (Tactical) بم بھی بنا لئے ہیں جو چوبیس ہیں۔ ماہرین کے نزدیک 2025ء تک دونوں ملکوں کے ایٹمی ذخیرے میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق دونوں کے پاس کل ملا کر پانچ سو ایٹم بم ہوں گے۔

اوریا مقبول جان کا کہنا ہے کہ دنیا نے اگر اس جنگ کو نہ روکا اور یہ ایک دن ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوگئی، اور یاد رہے کہ یہ ایٹمی جنگ صرف ایک دن ہی چلے گی کیونکہ اس ایک دن سے زیادہ کوئی ایک دوسرے کو مہلت ہی نہیں دے گا۔ ان ایٹمی ہتھیاروں کے چلنے کے بعد فضا میں ایک پگھلا دینے والی گرمی پیدا ہوگی جس سے وہاں پر موجود ہر چیز آگ پکڑ لے گی۔ اس آگ کو وہاں موجود ہوا ایک گرم آندھی میں بدل دے گی اور یوں محسوس ہوگا جیسے ایک آگ کا طوفان ہوتا ہے۔

زمین کے ساتھ ساتھ یہ آگ کا طوفان بڑھیاور پھیلے گا اور اس سے فضا میں بہت بڑی تعداد میں دھواں داخل ہو جائے گا۔ یہ دھواں کوئی عام دھواں نہیں ہوگا بلکہ یہ اپنے اندر انتہائی زہریلی “سیاہ کاربن” لیے ہوگا۔ یہ وہ گیس ہے جو عموما ڈیزل انجن کے مخرج سے برآمد ہوتی ہے۔ یہ زہریلا مواد زمین سے ٹکرانے والے کرّہ اول (Troposhere) سے اس کے بالائی کرّوں (Spehers) میں داخل ہوگا جنہیں Stratosphere کہا جاتا ہے اور پھر چند ہفتوں کے اندر اندر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹون کی تحقیق کے مطابق اگر امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ اور اسرائیل کے پاس موجود آدھے ایٹم بم بھی چل گئے تو زمین پر ایک ایٹمی سرد موسم (Nuclear winter) چھا جائے گا۔ ایک دھواں جو زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔اسکے بعد وہ اذیت ناک رات شروع ہو جائے گی۔ ایسی ہی اذیت ناک رات کا ذکر رسول اکرمؐ نے کیا ہے جو قیامت سے پہلے چھا ئے گی۔ اللہ جب قرآن پاک میں اس دھویں کے ذکر کرتا ہے تو اسکے بعد فرماتا ہے ” یہ لوگ کہیں گے اے پروردگار ہم سے یہ عذاب دور کر دیجئے ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ان کو نصیحت کہاں ہوتی ہے (الدخان 12,13)