نمرتا اور مہران ابڑو کے درمیان 4 ہزار سے زائد بار فون پر رابطوں کا انکشاف

نمرتا کماری کی اپنے دوست مہران ابڑو،علی شان اور اہل خانہ سے رابطوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات اکتوبر 14:57

نمرتا اور مہران ابڑو کے درمیان 4 ہزار سے زائد بار فون پر رابطوں کا انکشاف
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10 اکتوبر 2019ء) : نمرتا ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔نمرتا اور مہران ابڑو کے درمیان 4 ہزار سے زائد بار فون پر رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی طالبہ نمرتا اور ان کے قریبی دوست مہران ابڑو اور علی شان کے رابطوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ایس ایس پی نے بتایا ہے کہ ایف آئی اے سائبر ونگ کی جانب سے نمرتا ہلاکت کیس کی رپورٹ پولیس نے حاصل کر لی ہے۔

جس میں نمرتا اور مہران ابڑو کے درمیان بہت زیادہ رابطہ تھا۔اور دونوں چار ہزار بار کال اور ٹیکسٹ میسیج پر بات چیت کر چکے تھے۔نمرتا نے آخری بار 15 ستمبر کو مہران ابڑو سے رابطہ کیا ہے،اور اس ماہ میں نمرتا نے صرف ایک بار اپنے بھائی ڈاکٹر وشال سے بات کی تھی جب کہ قتل کے روز والد سے ایک بار اور والدہ سے چار بار بات کی تھی۔

(جاری ہے)

پولیس نے مزید 5طالبات کے بیانات قلمبند کر کے ایف آئی اے کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔

جب کہ دوسری جانب آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا چندانی کی موت کے حوالے سے رپورٹ سامنے آگئی ہے۔نمرتا چندانی کی ہلاکت کے معاملے میں لیاقت یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز جامشورو نے میڈیکل طالبہ کی ہسٹوپیتھالوجی ایگزامنیشن رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نمرتا چندانی کی موت بظاہر دم گھٹنے یا آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی، اس کے دل، گردوں، پھیپھڑوں اور جگر میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی نہیں پائی گئی۔

لیاقت یونیورسٹی ہیلتھ سائنسزجامشورو کی 26 ستمبر کو مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق زہر دینے یا غیر طبعی موت کی صورت میں جسم کے اعضا میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔نمرتا کی ہسٹوپیتھالوجی ایگزامنیشن رپورٹ لاڑکانہ پولیس کے حوالے کردی گئی ہے۔پولیس کے مطابق رپورٹ میں نمرتا کی موت کا سبب ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔لاڑکانہ پولیس نے دعوی کیا ہے کہ شواہد بتاتے ہیں کہ نمرتا نے خودکشی کی ہے، تحقیقات میں طالبہ کے قتل کے کوئی شواہد نہیں ملے۔