افغانستان میں حالیہ تشدد اور دھماکے پاکستان میں نئے مہاجرین کے داخلے کا سبب بن سکتے ہیں

وزیر مملکت برائے سیفران و انسداد منشیات شہریارخان آفریدی

اتوار اکتوبر 14:30

افغانستان میں حالیہ تشدد اور دھماکے پاکستان میں نئے مہاجرین کے داخلے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 اکتوبر2019ء) وزیر مملکت برائے سیفران و انسداد منشیات شہریارخان آفریدی نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ہائی کمشنر کو انتباہ کیا ہے کہ افغانستان میں حالیہ تشدد اور دھماکوں کی لہر پاکستان میں نئے مہاجرین کے داخلے کا سبب بن سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلپو گرانڈی سے جنیوا میں ملاقات کے دوران کیا۔

شہریار خان آفریدی نے پاکستان میں مہاجرین کی بہبود کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں حالیہ تبدیلیوں کے باوجود پاکستان افغان مہاجرین کی امداد اور فلاح و بہبود کا عمل جاری رکھے گا۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مہاجرین کیلئے پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف اور اسے درپیش مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

شہریارخان آفریدی نے کہا کہ یو این ایچ سی آر کو مہاجرکیمپوں میں صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یو این ایچ سی آر کی افغان مہاجرین کیلئے مختص رقم کم ہونے سے پاکستان میں ادارے کی مہاجرین کی فلاح و بہبود کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی انسانی حقوق کیلئے لگن اور عزم کے باعث لاکھوںافغان مہاجرین کو بنک اکاؤنٹس کی سہولت دی گئی۔

دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے کے باعث وزیراعظم عمران خان نے گلوبل ریفیوجی فورم کا مشترکہ کنوینئر بننا قبول کیا۔ شہریارخان آفریدی نے کہا کہ یو این ایچ سی آر کو مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی ممکن بنانے کیلئے کوششیں تیز تر کرنا ہوں گی، تمام شراکت داروں کو مہاجرین کے میزبان علاقوں میں ترقی اور بہبود کے پراجیکٹس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو مہاجرین کے نام پر کسی امداد کی ضرورت نہیں تاہم بین الاقوامی برادری مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے اپنا کردار ادا کرے، ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی امداد میں جرمنی اور اٹلی کی دلچسپی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلپو گرانڈی نے پاکستان کی چالیس سال تک لاکھوں افغان مہاجرین کی فراخدلانہ میزبانی اور امداد کا اعتراف کیا ۔

انھوں نے کہا کہ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی گلوبل ریفیوجی فورم میں شرکت کیلئے جنیوا آمد پر ان کا شاندار استقبال کریں گے۔انھوں نے یقین دلایا کہ افغان مہاجرین کی امداد کیلئے تمام ضروری اقدامات کررہے ہیں تاکہ ان کی امداد کیلئے زیادہ سے زیادہ ریسورسز کو موبلائز کیا جاسکے۔