پیپلز پارٹی اور ن لیگ ہاتھ ملتی رہ گئیں، جے یو آئی ف نے تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کر دیا

پی ایس 11 لاڑکانہ میں سندھ اسمبلی کی نشست کے ضمنی الیکشن کیلئے حیران کن طور پر مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کر دی، فیصلے پر پیپلز پارٹی سیخ پا

muhammad ali محمد علی پیر اکتوبر 21:16

پیپلز پارٹی اور ن لیگ ہاتھ ملتی رہ گئیں، جے یو آئی ف نے تحریک انصاف کی ..
لاڑکانہ (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 اکتوبر2019ء) پیپلز پارٹی اور ن لیگ ہاتھ ملتی رہ گئیں، جے یو آئی ف نے تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کر دیا، پی ایس 11 لاڑکانہ میں سندھ اسمبلی کی نشست کے ضمنی الیکشن کیلئے حیران کن طور پر مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کر دی، فیصلے پر پیپلز پارٹی سیخ پا۔ تفصیلات کے مطابق ملکی سیاست میں ایک دوسرے کے بدترین مخالف سمجھے جانے والی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور جے یو آئی ف کے ایک فیصلے نے سب ہی کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان ایک جانب تو حکومت کیخلاف لانگ مارچ کا اعلان کر چکے ہیں، تو دوسری جانب ان کی جماعت نے سندھ میں ضمنی الیکشن کے سلسلے میں تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

(جاری ہے)

سندھ کے حلقہ پی ایس 11 لاڑکانہ میں ضمنی الیکشن 17 اکتوبر کو ہو گا، اس سلسلے میں انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ اس دوران ایک حیران بات یہ سامنے آئی کہ جے یو آئی ف لاڑکانہ نے ضمنی الیکشن کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

جے یو آئی ف لاڑکانہ کے اس فیصلے پر پیپلز پارٹی نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے مولانا فضل الرحمان سے جے یو آئی کی پوزیشن کلیئر کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔ ایک بیان میں نثار کھوڑو نے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام لاڑکانہ کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی اتحادی بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ لاڑکانہ میں پی ٹی آئی سے اتحاد اور وفاق میں اختلاف، مولانا فضل الرحمان کی یہ کیسی دہری سیاست ہے۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان واضح کریں کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں یا خلاف ۔انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو کی ہدایت پر آزادی مارچ کیلئے سندھ حکومت شرکاء کو سہولیات دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کی پارٹی سندھ حکومت سے سہولیات لے کر سندھ میں حکومتی جماعت کے خلاف انتخابی مہم چلارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کی دہری سیاسی پالیسی کی وجہ سے جیالے غم وغصے کا شکار ہیں۔