وزیر اعظم آزادکشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان کی قیادت میں جے کے ایل ایف کے وفدکی اقوام متحدہ کے مبصرین سے ملاقات

بدھ اکتوبر 17:41

وزیر اعظم آزادکشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان کی قیادت میں جے کے ایل ..
مظفر آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اکتوبر2019ء) وزیر اعظم آزادکشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان کی قیادت میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے وفد نے اقوام متحدہ کے مبصرین سے ملاقات کی۔ اقوام متحدہ کے مبصرین کو ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی فوری طور پر بند کروانے کا مطالبہ کیا گیا۔ وفد میں وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان ،سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر ، وزیر ٹرانسپورٹ ناصر حسین ڈار، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے عبدالحمید بٹ، سلیم ہارون ، ڈاکٹر توقیر گیلانی، عبدالرحیم اندرابی اور رفیق ڈار شامل تھے۔

ملاقات کے بعد میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ کنٹرول لائن ایک خونی لکیر ہے جس کو ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہے،لوگوں کو کنٹرول لائن کراس کرنے سے روکنا میرے لئے انتہائی تکلیف دہ تھا ہندوستان مقبوضہ جموں وکشمیر کے اندر اور سیز فائر لائن پر جس حیوانیت کا مظاہرہ کر رہا ہے وہ ساری دنیا کے سامنے ہے،قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لئے ہمیں لوگوں کو روکنا پڑا۔

(جاری ہے)

لبریشن فرنٹ کے قائدین کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہماری بات سنی۔وزیر اعظم نے کہا کہ وفد نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں وہ سو فیصد درست ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ اپنا فیکٹ فائنڈننگ مشن بھیجے، ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے، ہندوستان کی طرف سے پابندیاں ہیں۔دنیا کو ہندوستان کا اصلی چہرہ دکھانا چاہتے ہیں۔

سیز فائر لائن کو ایک دن ختم ہونا ہے اس خونی لکیر کو پرامن طریقہ سے ختم کریں یا کسی اور طریقہ سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا، اقوام متحدہ کی قراردادیں ہمیں ریاست میں آنے جانے کا حق دیتی ہیں، کسی قوم کو اس طرح کی خونی لکیروں سے تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ وہ پاکستان کی وزارت خارجہ، مسلح افواج پاکستان اور ان گمنام سپاہیوں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے اس سارے عمل میں بھرپور تعاون کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت ایک بڑا انسانی المیہ رونما ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کو اس کا نوٹس لینا ہو گا اور فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے کشمیر یوں کو ان کا بنیادی حق ،حق خودارادیت دینے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں پر لائن آف کنٹرول عبور کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ ہم نے مظاہرین کو اس لیے لائن آف کنٹرول عبور کرنے سے روکا کیونکہ ان کی جانوں کے ضیائع کا خطرہ تھا لیکن اب وہ وقت دور نہیں جب ہم سب مل کر اس خونی لکیر کو عبور کریں گے۔

انہوں نے میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس انسانی المیے کو دنیا بھر میں اجاگر کیا۔ md/mhn/ifa 1720 @@;@ }خ*…ً$}خ*…ً }خ*…ً$}خ*…ً }خ*…ً})}$`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*& `mن*خ*ی*[ `mخ*ی*("`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی*& `mخ*ی*ڈ*`mخ*ی*"`mﷺ ?خ*ی**`mخ*ی* `mخ*ی*`mخ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*& `m ?خ*ی*("`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی*& `mخ*ی*4"`m ?خ*ی*& `m ?خ*ی*"`m ?خ*ی*& `m ?خ*ی*"`m ?خ*ی*& `m ?خ*ی*ط*"`m ?خ*ی*`mخ*ی* `mخ*ی*"`m ?خ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*․ `mخ*ی*("`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی*& `mخ*ی*ؐ`mخ*ی* `mخ*ی*`mخ*ی* `mخ*ی*%`mخ*ی* `mخ*ی*`mخ*ی* `mخ*ی*=`mخ*ی* `mخ*ی*`mخ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی* `mخ*ی*( `mخ*ی*("`mخ*ی* `mخ*ی*$`mخ*ی*& `mخ*ی*@`mخ*ی* `mخ*ی*نڈ*خ*ی* 2220(|] D( ث*+…|2Aث*+…|2Aث*+…|2Aث*+…|2 ;۰5L۔

D:;ف(؛n(ٹ*:؛nZUU۰5ہ*۔DTUت+۴q>T۴qL&ٹ*(>L&U@(U@rٹ*@rpR@F۰5چ*۔DEF×b1`Eb1(-(-۶ٹ*۶(س*,۰5۔D+,ی*@=#+@=نM ٹ*!#نM i !i DNٹ*DNیvیv۸ٖ@ML۔Dٹ*ٖr-zٹ*z۲ط*ٌ۰5L۔Dٌب*خiٹ*خiZغ*۰5L۔Dع*غ*س*فkٹ*ع*فkِXم*۰5ہ*۔Dٹ*Cم*ٰؔٹ*CٰؔTDت*TDُ(ٹ*ُ(ًًٖCی*۰5.۔Dٹ*ی*DHؤ۰5.۔Dٹ*ؤD4ؤ۰5.۔Dٹ*ؤD8ن*۰5.۔Dٹ*ن*DHو*۰5.۔Dٹ*و*Dک*۰5.۔Dٹ*ک*Dِ۰5.۔Dٹ*ِD۰5.۔Dٹ*Dِ۰5.۔Dٹ*ِD ہ*۰5.۔Dٹ*ہ*D ی*۰5.۔Dٹ*ی*D ۰5.۔Dٹ*ٍDی*۰5.۔Dٹ*ی*Dص*۰5.۔Dٹ*ص*Dہ*۰5.۔Dٹ*ہ*Dِ۰5.۔Dٹ*ِDُ۰5.۔Dٹ*ُDن*۰5.۔Dٹ*ن*Dٍ۰5.۔Dٹ*ٍDی*۰5.۔Dٹ*ی*Dٖ۰5.۔Dٹ*ٖDو*۰5.۔Dٹ*و*Dؤ۰5.۔Dٹ*ؤDط*۰5L۔Dٹ*ط*v vCی*۰5L۔Dٹ*ط*ی*_ٹ*ط*_C۰5L۔D|ز*ت( ٹ*ت(D۰5L۔D e eD,۰5۔D+,ی*@=#+@=نM ٹ*!#نM i !i DNٹ*DNیvیv۸ن*۰5.۔Dٹ*ن*21ش*s۰5L۔DrsJ7Rح*ٹ*rRح*؂:گ*۰5ہ*۔Dٹ*Cگ*;*