کراچی کی شاہراہ فیصل پر پٹرول پمپ 30 روپے لیز پر دستیاب

متعدد پٹرول پمپ 30روپے سے 100روپے لیزپر قبضہ مافیا نے ہتھیا رکھے ہیں

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات اکتوبر 07:02

کراچی کی شاہراہ فیصل پر پٹرول پمپ 30 روپے لیز پر دستیاب
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اکتوبر2019ء)   اس ملک کو ایسے لوٹ کر کھایا گیا ہے کہ جیسے اس کا کوئی وارث ہی نہیں تھا۔کبھی عدالتیں تو کبھی سیاستدان خود ایسے ایسے انکشاف کرتے ہیں کہ عام لوگ مبہوت ہو کر رہ جاتے ہیں۔کیا کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ کراچی کی شاہراہ فیصل پر دو کنال کی جگہ 30روپے لیز ر دی گئی ہو،نہیں نا مگر یہ حقیقت ہے اور اس کا انکشاف وفاقی وزیر نے کیا ہے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی حب کراچی میں پوش علاقوں میں 30 اور 100 روپے کرائے پر متعدد پیٹرول پمپ لیز پر دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔یہ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاو¿سنگ اینڈ ورکس کے ایک اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ہاو¿سنگ اینڈ ورکس طارق بشیر چیمہ نے کیا۔سینیٹر میر کبیر شاہی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر نے شرکت کی اور کراچی کے معاملے پر بات کی۔

(جاری ہے)

دوران اجلاس وفاقی وزیر نے بتایا کہ کراچی میں کئی قیمتی زمینوں پر قبضہ ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر اس قبضے کو خالی کروانے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔انہوں نے بتایا کہ جب زمین پر قبضہ خالی کروانے کے لیے انتظامیہ کے لوگ گئے تو لوگوں نے گھروں میں خواتین کو بند کرکے تالہ لگا لیا اور کہا کہ اب اس پر بلڈوزر چلا دیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ شہر قائد میں مہنگی ترین زمینوں پر غنڈوں کا قبضہ ہے۔

غیرقانونی طریقے سے لوگ سرکاری زمین پر بدمعاشی سے قابض ہیں، ہم زبردستی نہیں چاہتے لیکن ان قیمتی زمینوں سے قبضہ ہر صورت خالی کروائیں گے۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے کراچی کے پوش علاقوں میں 30 سے 100 روپے کرائے کی بنیاد پر پٹرول پمپ لیز پر دینے کا انکشاف بھی کیا۔انہوں نے بتایا کہ کراچی کے پوش علاقوں میں قیمتی زمینوں پر پٹرول پمپ ہیں، جس میں کوئی 30 تو کوئی 100 روپے کرایہ ادا کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ پٹرول پمپ ان علاقوں میں ہیں، جہاں کوئی عام شخص کرائے پر جگہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا، ایک پمپ تو شاہراہ فیصل پر بھی قائم ہے، کیا شاہراہ فیصل پر کوئی 30 یا 35 روپے میں کسی جگہ کو ہاتھ لگانے دے گا؟بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان پیٹرول پمز کی لیز پر 1960 سے کوئی نظرثانی نہیں کی گئی، اس پر جب بھی نظرثانی کی کوشش کی جاتی تو کوئی نہ کوئی حکم امتناعی لے آتا ہے۔