پاکستانی عوام/ سول سوسائٹی کے کشمیریوں کے ساتھ والہانہ محبت و عقیدت کے اظہار پر انکے شکرگزار ہیں ،راجہ فاروق حیدر

کشمیریوں پر جب بھی کبھی کوئی آفت آئی پاکستانی عوام ہمیشہ مظلوم کشمیریوں کی مدد کیلئے باہر نکلے، پاکستان کا ہر شہری کشمیریوں کاساتھ جس طرح کھڑاہوا اس پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں،وقت اور حالات کا تقاضاہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کو کو حل کرنے کیلئے آواز اٹھائے،وزیر اعظم آزاد کشمیر

جمعہ اکتوبر 18:10

پاکستانی عوام/ سول سوسائٹی کے کشمیریوں کے ساتھ والہانہ محبت و عقیدت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اکتوبر2019ء) وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام/ سول سوسائٹی نے کشمیریوں کے ساتھ جس والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے اس پر ان کے شکرگزار ہیں ، یہی وہ رشتہ ہے جو پاکستان اور کشمیر کو کبھی جدا نہیں کر سکتا۔ کشمیریوں پر جب بھی کبھی کوئی آفت آئی کوئی مصیبت نازل ہوئی پاکستانی عوام ہمیشہ مظلوم کشمیریوں کی مدد کیلئے باہر نکلے ۔

پاکستانی سول سوسائٹی نے بلا کسی تفریق کے کشمیریوں کے ساتھ جس وابستگی کا اظہار کیا وہ کشمیریوں کیلئے بہت بڑا سرمایہ اوران کی تحریک کو بہت بڑی اخلاقی مدد ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر اڑھائی ماہ سے ہمارے مظلوم بھائی جس اذیت اور کرب کا شکار ہیں ان کی مدد کا بہترین طریقہ ہے کہ یہاںہم پرامن طور پر ان کے حق کیلئے آواز اٹھائیں ۔

(جاری ہے)

پاکستان کا ہر شہری کشمیریوں کاساتھ جس طرح کھڑاہوا اس پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان سول سوسائٹی الائنس کے رہنمائوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں پاکستان سول سول سوسائٹی الائنس کے رہنما چوہدری محمد یاسین ، سیکرٹری جنرل آل پاکستان اخبار فروش یونین ٹکہ خان ، پاکستان سویٹ ہوم کے زمرد خان ، صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جنرنلسٹس افضل بٹ ، جنرل سیکرٹری راولپنڈی اسلام یونین آف جنرنلسٹص آصف بھٹی ، طارق چوہدری ویگر شامل تھے ۔

وزیر اعظم نے کہاکہ آزادکشمیر کی حکومت اور عوام پاکستانی عوام کے شکرگزار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی سطح پر کشمیراس وقت ایک سلگتا ہو ا مسئلہ ہے اور وقت اور حالات کا تقاضاہے کہ عالمی برادری اس مسئلے کے پرامن ، کشمیریوں عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کے طے شدہ فریم ورک کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے آواز اٹھائے ۔

اڑھائی ماہ ہو گئے ہیں مقبوضہ کشمیر میں سکول بند ہیں ، ہسپتال بند ہیں ، بازار اور مارکیٹیں ویران ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں نظام زندگی رک گیا ہے اور اسی لاکھ آبادی عملی طور پر جیل میں قید ہے ۔ بلا تفریق ہندوستان نے ان رہنمائوں کو بھی جو دہلی کے ساتھ اپنی ایمانداری اور وفاداری کا یقین دلاتے نہیں تھکتے تھے کو بھی پس زنداں کیا ہوا ہے ، وہ رہنما بھی آج کہنے پر مجبور ہیں کہ ان کے آبائو اجداد جوفیصلہ کیا تھا وہ غلط تھا ۔

انہیں اپنی غلطی کا احسا س ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں نے پاکستان بننے سے قبل اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کر دیا تھا جب قائد اعظم نے 1944میں کشمیر کا دورہ کیا تو اس وقت سے لیکر آج تک کشمیری پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ کشمیریوں نے اس تحریک کیلئے اپنا تن من دھن سب قربان کر دیا اور مشکلات کے باوجود کشمیری اپنے شہید بچوں کے جنازے پاکستانی پرچم میں دفناتے ہیں جو ان کی پاکستان کے ساتھ وابستگی کا اظہار ہے ۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر پاکستان سول سوسائٹی الائنس کی جانب سے پاکستان کے اندر تمام مکاتب فکر کی جانب سے مختلف پروگرامات کے دوران کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔