ہندوستان نے بین الاقوامی قوانین ،اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر پر جبری قبضہ کیا ہوا ہے ،راجہ محمد فاروق حیدر

بھارت اقوام متحدہ کے آرٹیکل 103 کے تحت مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل نہیں کرسکتا ،ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کررہا ہے جو جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں اوراس کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے،وزیر اعظم آزاد کشمیر

ہفتہ اکتوبر 17:52

ہندوستان نے بین الاقوامی قوانین ،اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 اکتوبر2019ء) وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نے عوامی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوامی خواہشات کے برخلاف مقبوضہ کشمیر پر جبری قبضہ کیا ہوا ہے ہیگ کنونشن کے آرٹیکل 42 کے تحت ہندوستان مقبوضہ کشمیر پر قابض ہے ہندوستان اقوام متحدہ کے آرٹیکل 103 کے تحت مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل نہیں کرسکتا ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کررہا ہے جو جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں اوراس کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے کالے قوانین کے ذریعے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب فوجیوں کو تحفظ دیا گیا ہے اور یہ فوجی بدترین جنگی جرائم میں ملوث ہیں مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو برے طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہے عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے جبری گمشدگیوں کی وجہ سے ہزاروں خاندان مسلسل کرب کا شکار ہیں لائن آف کنٹرول پر عورتوں اور بچوں پر نشانہ بازی کی جاتی ہے اور کلسٹر ایمونیشن کا استعمال کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہاروزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان یہاں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے خصوصی سیشن میں بحثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے سیشن سے معروف بین الاقوامی مصنفہ وکٹوریہ سکوفیلڈ سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار صدر سنٹرل پریس کلب مظفرآباد طارق نقاش نے بھی خطاب کیا۔

مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے ہیوی ملیٹرائزڈ زون ہے نو لاکھ فوجی کشمیریوں کی شخصی آزادیوں کو سلب کرنے کے لیے تمام ممنوعہ ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں افسپا اور پی ایس اے کے تحت انہیں کسی بھی شہری کو گرفتار کرنے شہید کرنے اوراس کی املاک کو تباہ کرنے کے مکمل اختیارات دیے گئے ہیں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ 5 اگست کا اقدام ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی سازش ہے یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ہندوستان کی جانب سے یہ کہنا کہ یہ دوطرفہ مسئلہ ہے کی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹراور قوانین کے مطابق کوئی حیثیت نہیں ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں جمہوری اخلاقی اقداروں کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے دنیا کے طاقتور ممالک اگر خطے میں امن چاہتے ہیں تو انہیں یہ مسلہ حل کرنا ہوگا کشمیریوں نے اس کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔

میرا خاندان تقسیم ہے میں بہت دکھی ہوں۔ دس سال بعد یہ کشمیر بدل چکا ہو گا۔ مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے درمیان کس حالات میں کشمیری زندگی گزار رہے ہیں۔ بچوں کو اٹھا لیا گیا۔ کئی بچے 1990 سے غائب ہیں۔بھارتی وزیراعظم مودی ایک ایک قدم گھناونے منصوبے کے تحت اٹھاتا جارہا ہے۔ہریانہ میں مودی نے کہا کہ وہ۔پانی روکے گا۔ آج کشمیر تاریک راہوں میں مر رہا ہے۔

کرفیو اٹھانا مسئلہ کا حل نہیں کشمیریوں کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق راے شماری کا حق دیا جائے۔ تبدیلی لانا پڑے گی۔ ہمارے پاس اب کچھ کھونے کے لیے نہیں ہے۔ میں بیڈ پر کیوں مروں۔ کیوں نہ میں لڑ کر مروں۔ یہاں کے لوگ پوچھتے ہیں کہ کب جاوں گا اور وہاں کے لوگ پوچھتے ہیں کہ کب آؤ گے۔سیز فائر لائن کراس کرکہ اب کشمیر 1947 کی سطح پر آگیا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ سارے معاہدے ختم ہو گئے ہم ابھی تک پرانی باتوں پر لگے ہیں کچھ نئی بات بھی کریں۔ مجھے کرسی کی فکر نہیں ہے جاتی ہے جائے سچ کہنے سے نہیں رکوں گا۔کشمیر کی آزادی کے لیے ہر حد تک جاونگا۔کشمیر میں کرفیو لگے 76 دن ہو گئے ہندوستان پاکستان کو نہیں چھوڑے گاآپ ڈالرز کے پیچھے نہ پڑیں۔