خیبرپختونخواہ میں 53 ارب کی بےقاعدگیوں اورغبن کا انکشاف

نیب پنجاب اورسندھ میں محض الزامات پر گرفتاریاں کررہا ہے، نیب کو خیبرپختونخواہ کیوں نظر نہیں آرہا۔ سربراہ اے این پی اسفند یار ولی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اکتوبر 20:50

خیبرپختونخواہ میں 53 ارب کی بےقاعدگیوں اورغبن کا انکشاف
پشاور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 اکتوبر2019ء) خیبرپختونخواہ میں 53 ارب کی بےقاعدگیوں اورغبن کا انکشاف ہوا ہے، سربراہ عوامی نیشنل پارٹی اسفند یار ولی نے کہا کہ نیب پنجاب اور سندھ میں محض الزامات پر گرفتاریاں کر رہا ہے، نیب کو خیبرپختونخواہ کیوں نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے آج یہاں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کی صحت کے حوالے سے جو خبریں آرہی ہیں وہ تشویشناک ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کو سزائے موت کے سیل میں رکھنا ناانصافی کا ثبوت ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ حکمران اُتنا ہی سیاسی مخالفین کو ٹارچر کریں جتنا کل وہ خود برداشت کرسکیں۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں 53 ارب کی بےقاعدگیوں اورغبن کا انکشاف ہوا ہے۔ سربراہ عوامی نیشنل پارٹی اسفند یار ولی نے کہا کہ نیب پنجاب اور سندھ میں محض الزامات پر گرفتاریاں کرنے والے نیب کو خیبرپختونخواہ کیوں نظر نہیں آرہا۔

(جاری ہے)

اگر احتساب کے نظام کا سلسلہ یو نہی چلتا رہا تو یہ ملک کسی صورت ایک مضبوط فیڈریشن کے طور پر مستقبل میں نہیں چل سکتا،ادارے اگر اسی طرح سیاسی بنیادوں پر گرفتاریاں اور سیاسی انجنیئرنگ کیلئے استعمال ہوتے رہے تو یہ ملک کسی صورت ترقی نہیں کرسکتا بلکہ آج معیشت کی جو حالت ہے حالات بد سے بدتر ہوتے رہینگے۔ اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ عجیب روایت چل پڑی ہے کہ جو بھی سیاستدان حکمرانوں کے بارے میں ڈٹ کر بولتا ہے اس پر یا نیب کے کیسز بنا ئے جاتے ہیں یا اس کے ساتھ پندرہ پندرہ کلو ہیروئن پکڑا جاتا ہے،رانا ثناء اللہ کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ حکومت ایک طرف واٹس ایپ کے ذریعے رانا ثناء اللہ کے کیس میں جج تبدیل کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف اسی حکومت کا وزیر گلہ کرتا ہے کہ کیس جلد از جلد شروع کیا جائے، ایک طرف رانا ثناء اللہ کو اسمگلر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو دوسری طرف اس کے کیس کو زیادہ اثاثہ جات کے کیس کا رنگ دیا جاتا ہے۔