بھارت جنوبی ایشیاء میں میں جنگ کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے، شہباز شریف

بھارت ایسی حرکتیں کیوں کرتا ہے؟ کہ اس کوسفید پرچم لہرا کراپنی لاشیں اٹھانا پڑتی ہیں، اقوام متحدہ کا فوجی مبصر مشن بھارتی جارحیت کا نوٹس لے۔ صدر(ن) لیگ شہبازشریف کا مذمتی بیان

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اکتوبر 22:15

بھارت جنوبی ایشیاء میں میں جنگ کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے، شہباز شریف
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 اکتوبر2019ء) مسلم لیگ ن کے صدراور قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیاء میں میں جنگ کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے، بھارت کیوں ایسی حرکتیں کرتا ہے؟ کہ اس کو سفید پرچم لہرا کر اپنی لاشیں اٹھانا پڑتی ہیں، اقوام متحدہ کا فوجی مبصر مشن مسلسل بھارتی جارحیت کا نوٹس لے۔ صدر ن لیگ اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ایل اوسی پربھارتی بلااشتعال فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کی موثر جوابی کارروائی پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

بھارت جنوبی ایشیاء میں میں جنگ کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستانی فوج  کو مئوثر جوابی کارروائی پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے شہداء کے درجات کی بلندی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبرجمیل کی دعا بھی کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بھارت ایسی حرکتیں کیوں کرتا ہے؟ جس کے بعد اسے سفید پرچم لہرا کر اپنی لاشیں اٹھانا پڑتی ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ کا فوجی مبصر مشن مسلسل بھارتی جارحیت کا نوٹس لے۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کی تمام دھمکیوں اورالزامات کو یکسرمسترد کردیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ الزامات کو تاریخ اور حقائق کومسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

کیا بی جے پی کے پاس پاکستان دشمنی کے علاوہ کچھ اور ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی حمایت اورمنشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ سیاسی فائدے کے لیے پاکستان کا نام استعمال کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ بھارت میں انتخابات جیتنے کیلئے پاکستان کے نام کا استعمال اب ختم ہونا چاہیے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہریانہ اورمہاراشٹرامیں انتخابی ریلیوں میں پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  کرتار پورراہداری کھولنے کے پاکستان کے تاریخی فیصلے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔