پاکپتن:پرائیویٹ ڈاکٹرز کی فیسیں مریضوں کی پہنچ سے باہر ڈاکٹرز مسیحا سے قصائی بن گئے

ڈاکٹر ادوا ساز کمپنیوں سے کوٹھیاں پلاٹ گاڑیاں پیسے اور دیگر مراعات لے کر مریضوں کو مہنگے نسخہ جات تھما دیتے ہیں

پیر اکتوبر 16:52

پاکپتن:پرائیویٹ ڈاکٹرز کی فیسیں مریضوں کی پہنچ سے باہر ڈاکٹرز مسیحا ..
پاکپتن(اُردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21اکتوبر2019ء، نمائندہ خصوصی،مُمشاد فرید) شہر میں پرائیویٹ ڈاکٹرز کی فیسیں مریضوں کی پہنچ سے باہر ہو گئے۔ ڈاکٹرز مسیحا سے قصائی بن گئے۔ غریب مریض مہنگائی کے دور میں علاج کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پرمجبور ہو چکے ہیں۔ بے حس ڈاکٹر فیس کم ہونے پر بزرگ مریضوں کو ذلیل کرکے اور دھکے دیکر ہسپتال سے نکال دیتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، پرائیویٹ ڈاکٹروں کی بھاری فیسوں، ہسپتال کے اندر بنائے گئے میڈیکل سٹور ،کمروں کے کرایوں کے نام پر لوٹ مار، لیبارٹریوں کے مہنگے ٹیسٹوں کے نام پر لوٹ مار، پارکنگ کے نام پر لوٹ مار نے مہنگائی کے اس دور میں غریب مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیلنا شروع کردیا ہے۔ متعدد سرکاری ڈاکٹرز نے اپنے پرائیویٹ کلینک کھول رکھے ہیں جہاں مریضوں سے 500 روپے سے لیکر 2000 روپے تک من مرضی کی فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

فیس نہ ہونے پر بزرگ مریضوں کو دھکے دیکر باہر نکال دیا جاتا ہے جو کہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ دُوسری جانب ڈاکٹر ادوا ساز کمپنیوں سے کوٹھیاں پلاٹ گاڑیاں پیسے اور دیگر مراعات لے کر مریضوں کو مہنگے نسخہ جات تھما دیتے ہیں۔یہ مہنگی ادویات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ شہریوں نے وزیراعظم عمران خان وزیراعلی پنجاب، صوبائی وزیرصحت و دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک کرنے پر پابندی لگائی جائے اور پرائیویٹ چیک کی فیس 200 روپے مقرر کی جائے۔