پاکستان کرکٹ بورڈ کے نت نئے فیصلوں ،اقدامات نے ملک میں کرکٹ وکرکٹرز کابیڑہ غرق اوران کوخون کے آنسورولادیاہے، انٹرنیشنل میچ ریفری

پیر اکتوبر 22:21

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نت نئے فیصلوں ،اقدامات نے ملک میں کرکٹ وکرکٹرز ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 اکتوبر2019ء) پشاورسے تعلق رکھنے والے سابقہ انٹرنیشنل میچ ریفری اشتیاق خان ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نت نئے فیصلوں ،اقدامات نے ملک میں کرکٹ وکرکٹرز کابیڑہ غرق اوران کوخون کے آنسورولادیاہے ڈومسٹک سسٹم کی تبدیلی،ڈیپارٹمٹل کرکٹ کاخاتمہ ،مصباح الحق کو بیک وقت دواہم عہدے پی سی بی کے ایسے نرالے اقدامات ہے جس کی وجہ سے کرکٹ کابھی ہال ، سکواش،ہاکی سے بدترہوگااوربچوں کے سہانے سپنوں ،امیدوں کاخاتمہ ہوجائے گا۔

پشاورمیں میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے اشتیاق لالہ نے بتایا بطورایلیٹ پینل میچ ریفری پاکستان کرکٹ بورڈکے ساتھ ساتھ آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) کے ساتھ بطورمیچ ریفری منسلک رہا۔تاہم اب جب پی سی بی کے حالات واقدامات دیکھتاہوتودل خون کے آنسوررتاہے انہوںنے بتایاکہ پی سی بی دومسٹک کرکٹ ڈھانچے پرمیرے کافی تحفظات ہیںٹیمیں کم کرنے سے کافی اوربہتیرین ٹیلنٹ بن کھلے مرجاگیاہے اوربچے اب مایوس وہ دلبرداشتہ ہوچکے ہیںپی سی بی اپنافیصلہ واپس لے ساتھ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کوختم کرنے کی بجائے دیگر اداروں کوبھی ساتھ ملائیں تاکہ بچوں کوکرکٹ کے ساتھ ساتھ نوکری بھی ملے اورایسے اقدامات سے بہترین ٹیلنٹ ہروقت پی سی بی کودستیاب ہوگااگرہم ماضی کے دریچوں میں دیکھے توہمارے کرکٹر زسٹارز اداروں میں ملازمت کے ساتھ ساتھ قومی ٹیموں میںسے کھیلتے رہے ہیں اورایسے اقدامات کی اب شدت سے ضرورت ہے کیونکہ کرکٹ کافی مہنگی ہوچکی ہے اگربچوں کوملازمت نہ ملے توہ مزید بہترکرکٹ نہیں کھیل سکے گے۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایاکہ عجب فیصلہ ہے کہ کوچ اورسلیکٹر جیسے اہم اورذمہ دارعہدے ایک ہی بندے کودے کردونوں اہم شعبوں کاسیاناس کردیاگیاہے پوری دنیا کی کرکٹ میں ایسے احمقانہ فیصلے مشکل سے دیکھنے اورسننے میں ملے گے ۔انہوںنے بتایاکہ پاکستان کرکٹ میں زائد العمر کھلاڑی کھیل رہے ہیں اورینگ ٹیلنٹ کو مواقعے نہیں مل پارہے ہیں اس نظام کاخاتمہ بھی اشدضرورری ہے بچوں کااوپر اورسامنے لانے کے لیے ان کوزیادہ سے زیادہ سے مواقعے دیناہونگے۔کوچز کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بہترین باولرز ،بلے باز،وکٹ کیپرز کوسامنے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔تاکہ پاکستان کرکٹ ایک مرتبہ پھربام عروج پرپہنچے۔