وزیراعظم سے اہم ملاقات، ایم کیوایم نے فواد چوہدری کے بیان پر تحفظات سامنے رکھ دیے

ملاقات میں اتحادی جماعت کے تحریری معاہدے پر عملدرآمد میں پیشرفت کا جائزہ،دفاتر کی واپسی اور لاپتہ کارکنان کی بازیابی کا مطالبہ جس بنیاد پر اس حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی ان مسائل پر بات ہوئی ہے،جتنا ایم کیو ایم نے برداشت کیا کوئی اور جماعت نہیں کرسکتی ،خالد مقبول کی میڈیا سے گفتگو

پیر اکتوبر 22:55

وزیراعظم سے اہم ملاقات، ایم کیوایم نے فواد چوہدری کے بیان پر تحفظات ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 اکتوبر2019ء) وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں ایم کیوایم پاکستان نے فواد چوہدری کے بیان پر تحفظات وزیراعظم کے سامنے رکھ دئیے اور پارٹی دفاترکی واپسی، لاپتہ کارکنان کی بازیابی کا مطالبہ دہرایاہے۔پیر کو وزیراعظم عمران خان سے ایم کیو ایم کے وفدنے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔وفد میں ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی،کنور نوید جمیل ، وسیم اختر ، فیصل سبزواری ، خواجہ اظہار شامل تھے، ملاقات میں اتحادی جماعت کے تحریری معاہدے پر عملدرآمد میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور ایم کیوایم نے فواد چوہدری کے بیان پر تحفظات وزیراعظم کے سامنے رکھ دئیے۔

ایم کیوایم نے پارٹی دفاترکی واپسی، لاپتہ کارکنان کی بازیابی کا مطالبہ دہرا دیا جبکہ میئر کراچی نے بلدیاتی اختیارات، آرٹیکل 140 اے کے اطلاق کا مطالبہ، کیا اور کہا کراچی اور حیدرآباد کے لیے ترقیاتی پیکج جلد جاری کیا جائے۔

(جاری ہے)

:وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جس بنیاد پر اس حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی ان مسائل پر بات ہوئی ہے۔

ہم نے وزیراعظم سے حیدرآباد یونیورسٹی کے افتتاح اور کیسز ختم کروانے کی بات کی ہے۔جن مسائل کی نشاندہی کی تھی ان کے حل کی رفتار کم ہے۔شہری علاقوں کے مسائل وزیر اعظم کے سامنے رکھے ہیں۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ بلدیاتی اداروں کو براہ راست فنڈز کی فراہمی پر سے ریڈ ٹیپ کا خاتمہ کیا جائے۔ جتنا ایم کیو ایم نے برداشت کیا اتنا کوئی اور جماعت نہیں کرسکتی ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلز حکومت سے کوئی اور توقع رکھنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ ایم کیو ایم ختم نہیںہوسکتی اب بھی پوری قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ آئندہ انتخابات میں پہلے سے زیادہ وووٹ لیں گے۔