وزیر اعظم نے ٹیپوسلطان بننے کااعلان کیا ہے مگران کے چاروں طرف محمدشاہ رنگیلے موجود ہیں،سراج الحق

ٹیپوسلطان بننے کے لیے ان سے جان چھڑوائیں،مسئلہ کشمیرکوعالمی سطح پراجاگرکرنے کے لیے 3، 4نومبر کو اسلام آباد میں دوروزہ بین الاقوامی کشمیرکانفرنس منعقدکریں گے ٓموجودہ حکومت کے رویوں نے قومی وحدت کو تارتار کیاہے،27اکتوبرکو صرف کشمیرپر بات ہونی چاہیے ، = مسئلہ کشمیرپر حکومت کنفیوژ ہے ، خود کوئی فیصلہ کرتی ہے اور نہ ہی کسی سے مشورہ لیتی ہے،حکومت سڑکیں بندکررہی ہے کہ کوئی اسلام آبادنہ آئے،پریس کانفرنس سے خطاب

پیر اکتوبر 23:52

وزیر اعظم نے ٹیپوسلطان بننے کااعلان کیا ہے مگران کے چاروں طرف محمدشاہ ..
اسلام آباد /لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 اکتوبر2019ء) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاہے کہ وزیر اعظم نے ٹیپوسلطان بننے کااعلان کیا ہے مگران کے چاروں طرف محمدشاہ رنگیلے موجود ہیں، ٹیپوسلطان بننے کے لیے ان سے جان چھڑوائیں۔ مسئلہ کشمیرکوعالمی سطح پراجاگرکرنے کے لیے 3، 4نومبر کو اسلام آباد میں دوروزہ بین الاقوامی کشمیرکانفرنس منعقدکریں گے۔

کانفرنس میں دنیابھرسے سیاسی رہنمااورانسانی حقوق کی تنظیمیں شرکت کریں گی ۔حکومت اورسیاسی جماعتوں کو مدعوکریں گے۔موجودہ حکومت کے رویوں نے قومی وحدت کو تارتار کیاہے۔27اکتوبرکو صرف کشمیرپر بات ہونی چاہیے ،کرفیوسے مقبوضہ کشمیر کی معیشت تباہ ہوگئی پاکستان کی محبت میں کشمیری فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔

(جاری ہے)

مسئلہ کشمیرپر حکومت کنفیوژ ہے ، خود کوئی فیصلہ کرتی ہے اور نہ ہی کسی سے مشورہ لیتی ہے،حکومت بہری گونگی اور اندھی ہے ،اس سے بات کرنا ایسا ہے جیسے دیوار سے بات کرنا ۔

حکومت سڑکیں بندکررہی ہے کہ کوئی اسلام آبادنہ آئے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اسلام آباد میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم ،نائب امیر میاں محمد اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں اگر بروقت فیصلہ نہ کیا جائے تو صدیوں سزا ملتی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ تاریخ کے سنگین لمحات سے گزر رہاہے۔

کشمیریوں کے حق خودارادیت کا مطالبہ جو بھارت کی قیادت سمیت دنیا نے تسلیم کیا تھا اس پر بھارت نے خود کشمیر کی حیثیت تبدیل کرکے پانی پھیر دیاہے جس سے کشمیری نئی آزمائش کا شکار ہیں بھارت کے اس فیصلہ سے 80لاکھ کشمیری یرغمال ہیں۔کشمیری اجتماعی قبر میں ہیںجہاں سانس لینا بھی مشکل ہے۔بھارت کی سیاسی قیادت سمیت 77 دنوں سے کسی کو بھی مقبوضہ کشمیر جانے نہیں دیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہورہاہے دنیا کو اس کا علم نہیں ہے ۔کشمیر سیاسی نہیں پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔بھارت کا اگلا ہدف مظفرآباد اور اسلام آباد ہوگا ۔بھارتی مسلمانوں کی شناخت کو بھی خطرہ ہے۔آر ایس ایس کہتی ہے کہ جس نے بھارت میں رہنا ہے اس کو ہندو بن کر رہنا ہوگا بھارت وہ اژدہا ہے جس سے خطے کے تمام ممالک کو خطرہ ہے۔

کشمیر کے چاروں طرف ایٹمی ممالک موجود ہیں دنیا کا امن کشمیر سے وابستہ ہے۔ 5اگست کو جب بھارت نے کشمیر کی مخصوص حیثیت کو ختم کیا ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان نے پوری دنیا میں اس کے خلاف احتجاج اور لوگوں کو متحرک کیاہے۔ برطانیہ کے 40 ارکان اسمبلی نے ہمارے پروگرام میں شرکت کی۔ پوری مسلم امہ کا فرض ہے کہ کشمیریوں کی پشت پر کھڑی ہوکر ان کو آزادی دلائے۔

انہوںنے کہاکہ قومی وحدت کوقائم رکھناحکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے موجودہ حکومت کے رویوں نے قومی وحدت کو تارتار کیاہے۔کشمیر پر قبضہ کے لیے بھارتی ایک اور ہم منتشر ہیں ۔18ہزار کشمیریوں کو قید کرکے کشمیر سے باہر کردیاہے۔ہم نے حکومت سے مطالبہ کیاتھاکہ اسلام آباد میں کشمیر پر بین الاقوامی کانفرنس بلائے مگر اب تک اس پر عمل نہیں کیا گیا ۔

مودی کے اعلانات اور لالچ کے باوجود کشمیری کہتے ہیں کہ موت قبول ہے مگر بھارت کے ساتھ نہیں رہیں گے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت کشمیر پر روڈ میپ دے،کشمیرکے مسئلے پر حکومت نے سنجیدگی نہیں دکھائی 27 اکتوبر کوجماعت اسلامی گجرات میں عظیم الشان کشمیر مارچ کرے گی۔حکومت او راپوزیشن کے درمیان ثالثی کے سوال کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ثالثی کے لیے دونوں طرف سے رضامندی ضروری ہے حکومت اسلام آباد کے لیے راستے بند نہ کرے۔

ماحول کا نارمل بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میں نہیں کہتاکہ حکومت نے کشمیرکاسودا کرلیاہے مگر یہ کہتاہوں کہ حکومتی اقدامات کشمیر کی آزادی کے لیے نہیں سٹیٹس کو کو برقرار رکھنے والے ہیں۔حکومت نے اپنے رویے کو ٹھیک نہیں کیا ۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کو وزیراعظم سے مایوسی ہوئی ہے۔ہر مشکل گھڑی میں اسلامی دنیا نے پاکستان کا ساتھ دیا پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا ۔کمزور حکومت کی وجہ سے بھارت نے کشمیر کی حیثیت ختم کی ہے۔