جانوروں کی کھال سے جیکٹس اور کوٹ بنانے پر ہزاروں ڈالر جرمانہ ہو گا

بال والی کھال سے کسی بھی قسم کی مصنوعات کی تیاری ممنوع قرار دے دی گئی

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل اکتوبر 06:49

جانوروں کی کھال سے جیکٹس اور کوٹ بنانے پر ہزاروں ڈالر جرمانہ ہو گا
واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2019ء)   سردیوںکی آمد آمد ہے اور اس موسم میں سردیوں سے بچاﺅ کے لیے لوگ چمڑے کے بنے کوٹ اور جیکٹس کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔مگر اب جانوروں کی کھال سے بنی جیکٹس بنانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔سب سے پہلے اس بال والی کھال سے بننے والی مصنوعات پر پابندی امریکہ میں عائد کی گئی ہے۔قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 500 ڈالر کا جرمانہ عائد ہوگا اگر کوئی متعدد مرتبہ خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تو اسے 1000 ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

کیلیفورنیا امریکا کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں جانوروں کی پوستین یعنی بال والی کھال سے بنی چیزوں و اشیاء پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔کیلیفورنیا کے شہری اب 2023 سے کھال سے بنے کپڑے، جوتے اور ہینڈ بیگز کی خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے۔

(جاری ہے)

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے وہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قانون چمڑے اور گائے کی کھالوں پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ہرن، بھیڑ اور بکرے کی کھالوں کی خرید و فروخت پر اثر پڑے گا،خبر میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون ان مردہ جانوروں پر بھی لاگو نہیں ہوگا جنھیں مصنوعی طریقوں سے محفوظ رکھا گیا ہے۔یورپی ملک فن لینڈ میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جانوروں میں جینیاتی تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ اس سے ان کے جسم پر موجود پوستین(بال والی کھال) میں اضافہ ہو جوبڑھتی عمر کے ساتھ مزید جاری رہتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق فن لینڈ میں اس بھیانک کام کا مقصد نرم فر (بال والی کھال)کی خرید و فروخت کو مزید منافع بخش صنعت بنانا ہے جو ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بال والی کھال خاص طور پر سردیوں کے ملبوسات کے علاوہ خواتین کے ہینڈ بیگز اور سفری بیگ بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور دنیا بھر کے ممالک کی معیشت میں اس کھال کا اہم حصہ شامل ہے۔