وزیر اعلیٰ بلوچستان کا آبائی ضلع لسبیلہ کا دورہ ،47کروڑ روپے کی لاگت کے نرگ ڈھورا سکیم کا افتتاح کردیا

نرگ ڈھورا سے تقریبا 30ہزار ایکڑ اراضی آباد ہوسکتی ہے ، جب تک ہم اجتماعی مسائل حل نہیں کرائینگے تب تک لوگوں کو اجتماعی فائدہ نہیں دلا سکیں گے، جام کمال خان کا تقریب سے خطاب

منگل اکتوبر 20:36

وزیر اعلیٰ بلوچستان کا آبائی ضلع لسبیلہ کا دورہ ،47کروڑ روپے کی لاگت ..
لسبیلہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اکتوبر2019ء) وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اپنے آبائی ضلع لسبیلہ کا دورہ 47کروڑ روپے کی لاگت کے نرگ ڈھورا اسکیم کا افتتاح کیا نرگ ڈھورا سے تقریبا 30ہزار ایکڑ اراضی آباد ہوسکتی ہے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ بیلہ نرگ کا جو وعدہ کیا تھا آج خوشی ہورہی ہے کہ ایک ارادہ تھا جو آگے کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے نرگ ڈھورا ٹوٹنے کی وجہ سے یہاں کے زمینداروں کو نقصان ہوا کافی پانی ضائع ہورہا ہے لسبیلہ میں عموما اجتماعی اسکیمات کے حوالے سے بہت کم اتفاق ہوتا ہے مگر نرگ ڈھورا پر لوگوں کا اتفاق دیکھ کر خوشی ہوئی میرے خیال میں ہم جب تک اپنے اجتماعی مسائل حل نہیں کرائیں گے تب تک لوگوں کو اجتماعی فائدہ نہیں دلائیں گے انفرادی بہت ساری کام کرائے مگر آج تک کمی محسوس کرتے ہیں ہم نے لسبیلہ میں ہر وقت کچھ نہ کچھ کیا تعلیم صحت سمیت پینے کے پانی اور زراعت کیلے ہمیشہ بہتری کیلے کوششیں کرتے رہیں.

انہوں نے کہا کہ لسبیلہ کی بہت بڑی آبادی ہے ہر یونین کونسل ہر گاؤں گوٹھ والے چاہتے ہیں کہ ان اسکیموں میں انکیگوٹھ کا اسکیم بھی شامل ہو اب انشاء اللہ یہ جو سلسلہ شروع ہوچکا ہے میری ذاتی خواہش ہیکہ وسائل ہیں اختیار ہے ماضی میں اکثر وسائل کے استعمال میں من پسندی ہوتی تھی اکثر وزراء اعلیٰ اپنے علاقوں میں بہت بڑی رقم لیجاتے تھے اور جو لوگ اپوزیشن میں ہوں یا حکومتی ارکان جو اثر انداز نہ ہوسکتے ہوں انکو اپنے حلقے میں کچھ نہیں ملتا تھاانہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم نے جہاں اپوزیشن کے ارکان ہوں ان ضلعوں تک کو محروم نہیں کیا ہے اور باقائدہ اسی طریقے سے فنڈز کی فراہمی کی ہے جیسا ہم نے اپنے ارکان یا اپنے حامی جماعتوں کے ارکان نہیں تھے اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم سب سے زیادہ رونا روتے ہیں کہ بلوچستان میں محرومی ہے اس محرومی کو ہمیں خود دور کرنا ہے کیونکہ ہم بلوچستان کے اندر ذمہ داران خود اپنے فیصلوں زمینی حقائق سے ہٹ کر اپنی ذاتی خواہشات پر کرینگے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم اسلام آباد یا کسی اور پر انگلی اٹھائیں.

وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ ہم ہماری کابینہ بلوچستان حکومت یہ محسوس کرتی ہے کہ بلوچستان اپنا حق سہی حقیقی طریقے سے اپنا حق مانگتا ہے جو ہمیں دینا ہے اور الحمد اللہ یہ پی ایس ڈی پی جو ہم سب کی مشاورت سے جس میں ہمارے ایم پی ایز ہوں. سیاسی رہنمائوں بیوروکریسی ہو یہاں تک اس بار ہم نے لوگوں سے بھی مشورے لیے اور بلوچستان کی تاریخ میں ایسی پی ایس ڈی پی بنائی ہے کہ اگر ہم اسکو سہی کامیابی کی طرف لیجائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان کا تاریخی پی ایس ڈی پی ہوگا اور اس بھی بڑھ کر یہ کہ کسی بھی حکومت کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی بھی حکومت نے جون میں پی ایس ڈی پی منظور کروایا اور جولائی میں ٹینڈر کرائے ہیں یہی اسکیمات تھیں جو پچھلی حکومتوں میں ستمبر تک مشکل سے ٹینڈر ہوتے تھے لیکن ہم نے جولائی سے ہی شروع کیے ہیں یہ ہم سب کی محنت کا نتیجہ ہی.

جام کمال خان نے کہا کہ ہم اجتماعی معاملات کو بہتر کرنے کیلے آپکے شہر آپکے یونین کونسل میں پہلی دفع بلوچستان میں ایسا پروگرام لارہے ہیں ایسے منصوبے بھی لارہے ہیں جو تین سال میں تکمیل ہوں ہم وہ منصوبے بھی لارہے ہیں جو دو یا تین سال میں مکمل ہوں اور انشاء اللہ ایک وہ پروگرام بھی لارہے ہیں جو نچلی سطح پر موضع جات تک گلیوں تک کے جو اسکیمات آپ چاہتے ہو یہ وہ پروگرام ہیں جو ہم لارہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ہم نے بیلہ. اوتھل وندر گڈانی حب لاکھڑا لیاری کنراج سمیت لسبیلہ بلکہ صوبے کے تمام اضلاع میں پانی کو بچانے کیلے ایسے منصوبے لارہے ہیں انشاء اللہ اگر موقع ملا پورے چار سال کا تو یہ کام مقررہ وقت میں مکمل کرینگی. انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں جو دوسروں کی اسکیمات اپنے نام کرنا چاہتے ہیں نرگ ڈھورا اسکیم کس کا ہے یہ بیلہ کی عوام نے ثابت کردیا حالانکہ ہمارے اسکیمات اپنے نام کرنے ذرا دیکھ لیں کہ یہ صوبے کے فنڈز سے بن رہا ہے تو وفاقی عوامی نمائندے کے نام کیسے ہوسکتا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محض لوگوں کے ذہین خراب کرنے کی بات ہے اور کچھ نہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پہاڑی علاقے کنراج میں بھی اسکیمات کا افتتاح کیا اس موقع پر میر عارف جان محمد حسنی، مشیر مٹھا خان کاکڑ، مختلف محکمہ جات کے سیکریٹریز سمیت کمشنر قلات ڈپٹی کمشنر لسبیلہ و دیگر اہم شخصیات موجود تھے

(جاری ہے)