ملکی مسائل کی وجہ عمران خان ہیں، استعفیٰ دینا پڑے گا، بلاول بھٹو زرداری

نئے انتخابات، انتخابی اصلاحات کا مطالبہ ہم سب کا ہے اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں، ہم نے جمہوریت کوبحال، میڈیا کو آزاد کرنا ہے، نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، آصف زرداری کی صحت کو لیکر حکومت ہمیں بلیک میل کرنا چاہتی ہے، کارکن، عہدیدارمولانا کے مارچ کا ہر جگہ استقبال ، مدد کرینگے، نیب آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو

منگل اکتوبر 23:36

ملکی مسائل کی وجہ عمران خان ہیں، استعفیٰ دینا پڑے گا، بلاول بھٹو زرداری
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اکتوبر2019ء) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملکی مسائل کی وجہ عمران خان ہیں، استعفیٰ دینا پڑے گا، نئے انتخابات، انتخابی اصلاحات کا مطالبہ ہم سب کا ہے اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں، ہم نے جمہوریت کوبحال، میڈیا کو آزاد کرنا ہے، نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، آصف زرداری کی صحت کو لیکر حکومت ہمیں بلیک میل کرنا چاہتی ہے، پیپلزپارٹی کے کارکن اور عہدیدار مولانا کے مارچ کا ہر جگہ استقبال اور مدد کریں گے ۔

نیب کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت میڈیکل بورڈز کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہی ہے بلکہ صدر آصف علی زرداری کی صحت پر پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے مگر پیپلزپارٹی ان کے دبائو میں کبھی نہیں آئے گی۔

(جاری ہے)

ہم اس سے پہلے بھی ایسے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرتے رہے ہیں اور اب بھی کریں گے۔ کٹھ پتلی کا مقابلہ کریں گے ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ہم نے سانحہ کارساز کے شہیدوں کی یاد میں ایک جلسہ رکھا تھا ۔ کراچی کے عوام نے یہ پیغام بھیجا کہ ہم کٹھ پتلی کو برداشت نہیں کریں گے اور عمران خان کو گھر بھیجیں گے۔ کل 23 تاریخ کو تھرپارکر میں جلسہ کر رہا ہوں وہاں کے عوام بھی یہی پیغام دیں گے کہ کٹھ پتلی کو گھر بھیجنا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عوام اپنے جمہوری حق کا تحفظ چاہتے ہیں، وہ اپنے انسانی حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں سب سے بڑھ کر وہ اپنے معاشی حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ یہ حقوق پاکستان پیپلزپارٹی عوام کو دیتی رہی ہے یہ حکومت عوام سے یہ حقوق چھین رہی ہے مہنگائی کی سونامی نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے۔ ہماری اور عوام کی جدوجہد سے اور پیپلزپارٹی کے جیالوں کی جدوجہد سے یہ حکومت گھر جائے گی اور عوام کے حقوق بحال ہوں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت خود اسلام آباد کو بند کرنا چاہتی اور لاک ڈا?ن کرنا چاہتی ہے اور یہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ حکومت خود دارالحکومت کو بند کررہی ہے۔ جمہوری احتجاج تو ہر جماعت کا حق ہوتا ہے۔ یہ ہمارا آئیں کہتا ہے اور یہ سپریم کورٹ کہتی ہے آپ نے خود اس کا بڑا فائدہ اٹھا یا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خان صاحب نے تو خود کہاتھا کہ جہاں مرضی احتجاج کریں، کنٹینر بھی بھیجوں گا کھانا بھی بھیجوں گا مگر اب ہر بات پر یو ٹرن لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ خان صاحب کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سیاست میں سیاسی کردار ادا کیا جاتا ہے۔انہیں سیاسی میدان میں سپیس دینا ہوگا ورنہ ہم یہ چھین کر لیں گے۔ مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ اسمبلی پر تالا لگائیں انتخابات میں دھاندلی کروائیں ، آپ عدلیہ پر پریشر ڈالیں ، آپ نیب پر پریشر ڈالیں اور اس طرح آپ جمہوری راستے بند کر رہے ہیں۔

اس سے ہم مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم احتجاج کریں۔ کل رہبر کمیٹی کا تمام پارٹیوں کا جو اجلاس ہوا تھا اس میں حکومت کی طرف سے مذاکرات کی دعوت پر غور ہوا کہ اس میں حکومت کو مذاکرات کے ساتھ ساتھ یہ بھی کرنا پڑے گا کہ احتجاج کرنے والوں کوسہولتیں دینی چاہئیں جو ان کا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پیپلزپارٹی کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ شروع کی اے پی سی میں واضح طور پر اپنی سپورٹ آزادی مارچ کو دے گی۔

پیپلزپارٹی کے کارکن اور عہدیدار مولانا کے مارچ کا ہر جگہ استقبال کریں گے اور مدد کریں گے ۔ ہماری اپنی عوام رابطہ مہم جاری ہے۔ کراچی کے بعد تھرپارکر اور اس کے بعد کشمور میں جلسہ ہوگا اور ہم اپنا پریشر اس طرح بڑھائیں گے۔ ہماری کوشش ہے ہماری اس سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں گھر جانا پڑے گا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ حکومت کی جو گھبراہٹ ہے، جو ڈر اور جو پریشانی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جتنا یہ بزدل یہ وزیراعظم ہے اتنا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم کو حوصلہ پکڑنا چاہیے اور ہر ریلی سے، ہر پریس کانفرنس سے اور احتجاج سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ اسلام آباد صرف اس کا شہر نہیں یہ پورے ملک کا دارالخلافہ ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ ایک واضح موقف رہا اور ہم نے ہر آمر کا اور ہر کٹھ پتلی کا مقابلہ کیا ہے۔ ہم پارلیمان کے فورم پر اور احتجاج کے فورم پر ان کو بے نقاب کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔