حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف اور بلاول بھٹو سے رابطے کا فیصلہ کرلیا

حکومت بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے میں سنجیدہ ہے اس لیے حکومتی کمیٹی تمام اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرے گی: شرکاء کمیٹی کا اعلان

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ منگل اکتوبر 22:23

حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف اور بلاول ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22 اکتوبر2019ء) حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ مسترد کردیا، شرکاء کمیٹی نے اتفاق کیا کہ حکومت اپوزیشن کے پرامن احتجاج کا حق تسلیم کرتی ہے،لیکن موجودہ ملکی صورتحال میں اسلام آباد کی طرف جانا مناسب نہیں،حکومت بات چیت کے ساتھ معاملات حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن کے آزادی مارچ سے نمٹنے کیلئے بنائی گئی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا وزیردفاع پرویزخٹک کی صدارت میں اجلاس ہوا۔

اجلاس میں رہبرکمیٹی کے مطالبات کر غور کیا گیا۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف اور بلاول بھٹو سے رابطے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے میں سنجیدہ ہے اس لیے حکومتی کمیٹی تمام اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرے گی۔

(جاری ہے)

شرکاء نے اتفاق کیا کہ حکومت اپوزیشن کے پرامن احتجاج کا حق تسلیم کرتی ہے۔

لیکن موجودہ ملکی صورتحال میں اسلام آباد کی طرف جانا مناسب نہیں۔ حکومت بات چیت کے ساتھ معاملات حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔اجلاس میں حکومتی کمیٹی نے تمام اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی کمیٹی کے ارکان شہبازشریف سے بھی رابطہ کریں گے، اسی طرح بلاول بھٹو سے رابطے کا ٹاسک چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو سونپا گیا ہے۔

چودھری پرویز الٰہی مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کریں گے۔ دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر اور سینئر قانون دان بابراعوان نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کو 5 سال پورے کرے گی، ملک میں پانچ سال سے پہلے کسی الیکشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگلے پانچ سال میں تمام ادارے تبدیل کردیے جائیں گے،وزیراعظم کسی کا لحاظ نہیں کررہے ہیں، ہمارا بیانیہ کہنے والے تمام حلوے کی دیگ میں لپیٹے جائیں گے۔