پاکستان دودھ پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں 5 ویں نمبر پر ہے، پاکستان کا ڈیری سیکٹر انتہائی متحرک اور اسٹریٹجک سیکٹر بن گیا ہے، پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلیمان منو کی ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو

بدھ اکتوبر 13:15

پاکستان دودھ پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں 5 ویں نمبر پر ہے، پاکستان ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 اکتوبر2019ء) پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلیمان منو نے کہا ہے کہ پاکستان دودھ پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں 5 ویں نمبر پر ہے، پاکستان کا ڈیری سیکٹر ایک انتہائی متحرک اور اسٹریٹجک سیکٹر بن گیا ہے جس کے ساتھ قومی معیشت، صحت عامہ اور ماحول پر بہت گہرا اثر پڑا ہے، پاکستان میں فروخت ہونے والا 95 فیصد دودھ کھلے دودھ کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے، غیر صحتمند یا ملاوٹ والا دودھ ہماری ضرورت کے مطابق غذائیت فراہم نہیں کرتا جس کی وجہ سے غذائی قلت اور اسٹنٹڈگروتھ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان خیالات کے اظہار انہوں نے یہاں ایک روزہ ڈیری سیمینار کے موقع پر ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اِس وقت پاکستان دٴْنیا کے پانچ سب سے زیادہ دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں فروخت ہونے والا پچانوے فیصد دودھ دراصل کھلے دودھ کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے جس میں سے زیادہ تر غیر صحتمند یا ملاوٹ والا دودھ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت پاسچرائزیشن قانون متعارف کرانے کے لئے بہت ہی مثبت قدم اٴْٹھا رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ استعمال کیا جانے والا دودھ ملاوٹ اور نقصان دہ بیکٹریا سے پاک ہے اورغذائیت کے معیار کی تعمیل کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ استعمال کے قابل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پلیٹ فارم مہیا کرے گی تاکہ صارفین کو دودھ کی محفوظ فراہمی کے لئے ضروری اقدامات کئے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ڈیری سیکٹر ایک انتہائی متحرک اور اسٹریٹجک سیکٹر بن گیا ہے جس کے ساتھ قومی معیشت، صحت عامہ اور ماحول پر بہت گہرا اثر پڑا ہے۔سلیمان منّو نے کہا کہ پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کی حیثیت سے ہماری دِلّی خواہش ہے کہ ڈیری سیکٹر کو ترقی دینے کے لئے پاکستان میں پاسچرائزیشن قانون کو نافذ کرنے میں حکومت کو اپنا پورا تعاون فراہم کریں تاکہ یہ ملک کی معاشی ترقی میں معاون و مددگارثابت ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ سیمینار کے انعقاد کا مقصد متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھا تاکہ وہ نہ صرف اپنی مہارت کو دوسروں کے ساتھ شیئر کر سکیں بلکہ ڈیری انڈسٹری کو ترقی دینے کے لئے اتفاق رائے بھی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار میں حکومتِ پاکستان، ڈیری انڈسٹری، ریگولیٹری باڈیز اور میڈیا کے سٹیک ہولڈرز سمیت عالمی مہمانوں آئی ایف سی این، ڈبلیو ایچ او، انٹرنیشنل ڈیری فیڈریشن اور حکومتِ ترکی کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنی منڈیوں میں ڈیری انڈسٹری سے متعلق آگاہی اور حقائق بیان کئے۔