ہمارے پاس صرف ڈھائی فٹ کے ڈنڈے ہیں، اگر انکے حکومت لائسنس دیتی ہے تو ہم لے لیں گے: سربراہ انصار الاسلام

ہماری تنظیم کو 100 سال ہوچکے ہیں لیکن آج تک کسی سالار پر کوئی ایف آئی آر نہیں ہوئی، وزارت داخلہ کی ہماری تنظیم کے بارے میں کوئی اسٹڈی نہیں: انجینئر عبدالرزاق لاکھو

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ ہفتہ نومبر 23:57

ہمارے پاس صرف ڈھائی فٹ کے ڈنڈے ہیں، اگر انکے حکومت لائسنس دیتی ہے تو ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 02 نومبر2019ء) جمیعتِ علماء اسلام گ کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے سربراہ انجینئر عبدالرزاق لاکھو نے تنظیم پر پابندی لگائے جانے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہماری تنظیم کو 100 سال ہوچکے ہیں لیکن آج تک کسی سالار پر کوئی ایف آئی آر نہیں ہوئی، وزارت داخلہ کی ہماری تنظیم کے بارے میں کوئی اسٹڈی نہیں ہے۔

عبدالرزاق لاکھو نے کہا ہے کہ ہمارے پاس صرف ڈھائی فٹ کے ڈنڈے ہیں، اگر انکے حکومت لائسنس دیتی ہے تو ہم لے لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں ہمارے رضاکاروں کی تعداد 80 ہزار ہے، ہماری تنظیم کو 100 سال ہو چکے ہیں لیکن کبھی کسی سالار پر ایف آئی آر تک نہیں ہوئی۔ سربراہ انصار الاسلام نے مزید کہا کہ ہمارا کوئی رضاکار فورتھ شیڈول میں بھی نہیں، ہمارا کوئی تربیتی سینٹر نہیں ہم عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

انجنیئرعبدالرزاق لاکھو نے کہا کہ ہمارے پاس ڈھائی فٹ کی ڈنڈی ہے، حکومت اس کا لائسنس دیتی ہے تو وہ بھی لے لیں گے۔ یاد رہے کہ 21 اکتوبر کو حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کیلئے وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو بھیجی گئی سمری میں کہا گیا تھا کہ جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم لٹھ بردار ہے اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا، قانون میں کسی قسم کی مسلح ملیشیا کی اجازت نہیں۔

البتی بعد میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے اس حوالے سے دائر ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ انکی رائے میں انصار الاسلام پر پابندی کا نوٹیفکیشن ہی غیر مؤثر ہے کیونکہ اس تنظیم کا اصل میں تو کوئی وجود ہی نہیں ہے۔