کویت اور سعودی عرب میں ملازماؤں سے جسم فروشی کرائی جانے لگی

انسٹاگرام سمیت فیس بک اور گوگل کی جانب سے تیار کی گئی دیگر ایپلی کیشنز کی مدد سے ملازماؤں کی تصویریں لگا کر اُن کے لیے گاہک حاصل کیے جاتے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل نومبر 17:45

کویت اور سعودی عرب میں ملازماؤں سے جسم فروشی کرائی جانے لگی
ریاض(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5 نومبر 2019ء ) کویت اور سعودی عرب میں غیر ملکی ملازماؤں سے جسم فروشی کرانے اور انہیں چند ہزار ڈالر کے عوض فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کویت اور سعودی عرب میں غیر ملکی گھریلو خادماؤں کی آن لائن فروخت کا دھندا بہت تیزی سے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ کئی کم عمر لڑکیوں کی تصویریں انسٹاگرام سمیت فیس بک اور گوگل کی جانب سے تیار کی گئی دیگر ایپلی کیشنز پر لگا کر اُن کے لیے گاہک حاصل کیے جاتے ہیں۔

کئی ملازماؤں کو طویل عرصے کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے اور کچھ کے لیے عارضی گاہک حاصل کر کے اُن سے جسم فروشی کے بدلے رقم حاصل کی جاتی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کویت کے ہر نویں گھر میں گھریلو ملازم یا ملازمہ موجود ہے۔

(جاری ہے)

ان ملازماؤں کی آن لائن فروخت کے وقت ان کی تصاویر دینے سمیت ان کی قومیت، عمر، جسمانی خصوصیات کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔

اس دھندے میں مردوں کے ساتھ ساتھ کویتی خواتین بھی ملوث ہیں۔ کچھ ایشیائی ممالک کی ملازماؤں کو محض2 ہزار امریکی ڈالر میں بیچ دیا جاتا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے خواتین ملازمین کی آن لائن فروخت کے شرمناک دھندے میں ملوث چند افراد سے ملاقاتیں بھی کیں جنہوں نے آن لائن خرید و فروخت کا اعتراف کیا اور اسے منفعت بخش کاروبار قرار دیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب اور کویت میں مجرمانہ خصلت کے مالکان افریقی اور جنوبی ایشیائی ممالک سے گھریلو خدمات کے لیے آنے والی ملازماؤں سے پاسپورٹ اور موبائل فون چھین کر اُنہیں کچھ ہفتوں تک اپنے پاس رکھ کر زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر اُنہیں آن لائن فروخت کر دیتے ہیں۔

زیادہ تر بھارت، نیپال اور فلپائن کی ملازماؤں سے یہ شرمناک سلوک کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے اس انکشاف کے بعد کویتی حکام کی جانب سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔