Live Updates

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ استعفے کے لیے تھا ہی نہیں

مولانا کو بلوچستان میں باقاعدہ حصہ بھی دیا جائے گا ۔ سینئیر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات نومبر 10:20

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ استعفے کے لیے تھا ہی نہیں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 نومبر 2019ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا کہ امیر جمیعت علمائے اسلام (ف) کا آزادی مارچ استعفے کے لیے نہیں بلکہ نیب کی کارروائیاں اور احتساب کا عمل روکنے کے لیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات سود مند رہی ہے اور اُمید ہے کہ آزادی مارچ چند دنوں میں ختم ہو جائے گا۔

سینئیر صحافی کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ ختم کرنے کے حوالے سے معاملات کافی حد تک طے ہوگئے ہیں تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم ہی کریں گے کہ مولانا کو کیا دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے حوالے سے بہت ساری یقین دہانیاں کروائی گئی ہیں اور بلوچستان میں باقاعدہ حصہ بھی دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نیب مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی رہنماوں کے خلاف کیسز نہیں کھولے گا اور جو چل رہے ہیں ان پر کارروائی روک دی جائے گی۔

ن لیگ کے 80 فیصد مسائل حل ہو چکے ہیں اور جو کیسز کھولنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں وہ روک دی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اس وقت کسی بڑی یقین دہانی اور گارنٹی کے منتظر ہیں۔ اس حوالے سے ذرائع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو حکومتی کمیٹی کے ایک یا دو ممبران کے سوا کسی پر اعتماد نہیں ہے اوریہی وجہ ہے کہ مولانافضل الرحمان حکومتی پیشکش پر تاحال مطمئن نہیں اور مسلسل رہبر کمیٹی کو انگیج رکھ کر دباؤ بڑھانا چاہتےہیں۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان مسلسل رہبر کمیٹی کو انگیج رکھ کر حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی سمیت ملک بھر سے شروع ہونے والا مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اس وقت اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے پر موجود ہے۔ آزادی مارچ کے شرکا مولانا فضل الرحمان کی کال پر اسلام آباد آئے جہاں وہ سات روز سے موجود ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ختم سے متعلق تازہ ترین معلومات