سانحہ تیز گام میں جاں بحق ہونے والی خاتون زندہ ہو گئیں

میری والدہ شور کوٹ میں زندہ ہیں ان سے رابطہ ہو گیا ہے۔ بیٹے نے سانحہ تیز گام میں جاں بحق ماں کی میت لینے سے انکار کردیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات نومبر 11:56

سانحہ تیز گام میں جاں بحق ہونے والی خاتون زندہ ہو گئیں
سانگھڑ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 نومبر 2019ء) : سندھ کے شہر سانگھڑ کی رہائشی سانحہ تیز گام میں جاں بحق ہونے والی خاتون زندہ ہو گئیں۔تفصیلات کے مطابق سانحہ تیزگام میں جاں بحق خاتون کی لاش معمہ بن گئی۔سانحہ تیز گام میں جاں بحق لاش ورثاء نے لینے سے انکار کردیا۔سانحہ تیز گام میں جاں بحق ہونے والے ماں اور بیٹے کی میتیں سنگھڑ میں ورثاء نے وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

بیٹے نے انتظامیہ کو بتایا ہے کہ اس کی والدہ شور کوٹ میں زندہ ہیں ان سے رابطہ ہو گیا ہے۔۔انتطامیہ نے بتایا کہ میتیں ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کے بعد لائی گئیں۔انتظامیہ نے میتیں مقامی اسپتال سرد خانے میں رکھوا دی ہیں۔ جب کہ خاتون کے ورثاء کا انتظار کیا جا رہا ہے۔جب کہ دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ورثاء نے علی حیدر کی لاش تو وصول کر لی ہے تاہم دوسری لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے بیٹے کا موقف ہے کہ میت میرے والد ولی محمد کے نام سے لائی گئی جن کا انتقال 2015ء میں ہو چکا ہے۔جب کہ والدہ شور کوٹ میں خیریت سے ہیں۔اے سی بابر نظامانی کا کہنا ہے کہ میت کو رحیم یار خان واپس بھجوانے کے انتظامات کر رہے ہیں۔جب کہ دوسری جانب سانحہ تیز گام کے جان بحق 42 افراد کی ڈی این اے رپورٹ پنجاب فرانزک لیبارٹری لاہور سے شیخ زید ہستال رحیم یارخان کو موصول ہوگئی ہے۔

باقی کی جلد رپورٹ متوقع ہے ۔6 نومبر بروز بدھ بیالیس میتیں ان کے ورثا کے حوالے کی گئیں تھیں۔ ان میتیوں کو ایمبولینس کے ذریعہ ان کے آبائی علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق شیخ زید ہسپتال میں 62 افراد کی باڈیز لائی گئیں جن میں تین کی شناخت ہوگئی تھی اور ایک لاوارث باڈی بھی رکھی گئی تھی سانحہ میں 22 زخمی افراد کو شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان 9 کو بہاول پور وکٹوریہ ہسپتال جبکہ 8 زخمیوں کو نشتر ہستال ملتان میں داخل کیا گیا تھا ۔جب کہ سانحہ تیز گام کو 10روز گزر گئے،لاپتہ ندیم مغل کا تاحال سراغ نہ مل سکا۔