فضائی آلودگی کے باعث سموگ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے ‘محمد جاوید

محکمہ موسمیات ، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے غیر سنجیدہ ہیں ،عوام بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں‘امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب

جمعرات نومبر 15:32

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 نومبر2019ء) امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب وصدر ملی یکجہتی کونسل وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا کہ لاہور میں پڑنے والی سموگ نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سموگ کی روک تھام کے لیے جو اقدامات کیے گئے تھے وہ سارے کے سارے دھرے رہ گئے ہیں۔ حکمرنوں کی عد توجہی اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ لاہور جیسا خوبصورت او ر باغوں کا شہر فضائی آلودگی میں سب سے نمایاں ہوگیا ہے۔

اور عوام ناک، گلے ، آنکھوں اور سانس کی مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ محکمہ تحفظ ماحول کاانٹی سموگ آپریشن بھی بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزلاہور اور گوجرانوالہ میں مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہر سال سموگ سے ہزاروں افراد متاثر ہوتے ہیں مگرحکمرانوں کے بلند و بالادعووں کے بر عکس ان کی کارکردگی ہمیشہ مایوس کن رہی ہے۔

حکومت وقت کو سموگ کے مستقل خاتمے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بد قسمتی سے ’’عالمی ایئر کوالٹی انڈکس‘‘ میں پاکستان کا نمبر تیسرا ہو چکاہے۔ محکمہ ماحولیات ، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے سموگ سے متعلق سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ محض ڈنگ ٹپائو اقدامات کیے جارہے ہیں، جس انداز میں ڈینگی سے نمٹا گیا اسی انداز میں سموگ سے نمٹا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے ہر محاذ پر قوم کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ہر شعبہ تباہی کا منظر پیش کررہا ہے۔ لوگوںمیں حکمرانوں کے حوالے سے نفرت بڑھ رہی ہے۔ ملک کی آزادی خود مختاری، عزت، وقار اور سلامتی سب کچھ دائو پر لگ چکا ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ قوم تبدیلی کا نعرہ لگا کر دھوکہ دینے والوں کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’’ پنجاب گرین ڈیلپمنٹ پروگرام‘‘ کا مقصد حکومتی سطح پر آلوگی کو کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی امور میں معاونت فراہم کرنا اور سبزے کی افزائش کرنا ہے مگر چالیس ارب کی لاگت سے شروع ہونے والا پروگرام بھی لگتا ہے کہ آغاز کے چند دن بعد ہی ناکام ہو گیا ہے ۔