ماحولیاتی آلودگی سموگ کا باعث بنتی ہے‘پروفیسرحکیم محمد احمد سلیمی

سموگ کے باعث سانس اور آنکھوں کے امراض جنم لیتے ہیں‘حکماء کا طبی مذاکرہ سے خطاب

جمعرات نومبر 15:32

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 نومبر2019ء) ماحولیاتی آلودگی ’’دھواں‘‘ گرد اور دُھند کی آمیزش دُھند لا بادل سموگ کا باعث بنتے ہیں فیکٹریوں، گاڑیوں ، تندوروں ، تعمیراتی کام کے دوران پیدا ہونے والا گردوغبار اور دھواں (سموگ) کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ان خیالات کا اظہار پاکستان طبی کانفرنس کے راہنمائوں پروفیسر حکیم احمد سلیمی، پروفیسر حکیم سید عمران فیاض، پروفیسر حکیم محمد افضل میو نے ’’سموگ اور احتیاطی تدابیر‘‘ کے حوالے سے منعقدہ طبی مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ (سموگ)کے باعث سانس کے امراض ، آنکھوں کی تکالیف پیدا ہو سکتی ہے اس لیے ضروری ہے جب بھی آپ گھر سے باہر نکلیں اپنے منہ اور ناک کو ڈھانپ کر رکھیں اور اس موقع پر ماسک کا استعمال لازمی کریں۔

(جاری ہے)

اگر موٹر سائیکل کااستعمال کریں تو ہیلمٹ ضرور پہنیں اور چشمے کا استعمال کریں۔ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں اور کولا مشروبات سے پرہیز کریں اپنے گھروں، دوکانوں کے باہر مٹی والی جگہ پر پانی کا چھڑکائو کریں ۔

تعمیراتی جگہوں اور کوڑا کرکٹ والی متعفن جگہوں پر بھی خصوصی توجہ دیں تاکہ دھول یا مٹی وغیرہ نہ اڑے انہوں نے کہا کہ دن میں دو سے تین بار عرق گلاب آنکھوں میں ڈالیں۔ دوران سموگ بچوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں گھروں کی صفائی کے دوران جھاڑو کی بجائے گیلا کپڑا استعمال کریں۔ اس موقع پر حکیم امجد وحید بھٹی ، حکیم طاہر نوید جنجوعہ، حکیم عمرفاروق گوندل، حکیم فیصل صدیقی، حکیم عیسیٰ نذیری، حکیم محمد اسماعیل ، حکیم حامد محمود ، حکیم محمد ابوبکر، حکیم فیصل طاہر صدیقی، حکیم حافظ عبدالرزاق کھوکھر، حکیم عطاء الرحمن صدیقی، ڈاکٹر سکندر حیات زاہد ، طبیبہ محمودہ سلطانہ اور طبیبہ فرح تبسم بھی موجود تھیں۔