دادو پی ایس 86، ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی نے میدان مار لیا

پیپلزپارٹی کے امیدوارسید صالح شاہ 19845ووٹوں سے برتری حاصل،پی ٹی آئی کے امدادعلی لغاری 8264 ووٹ حاصل کرسکے۔ غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات نومبر 18:46

دادو پی ایس 86، ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی نے میدان مار لیا
دادو(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 نومبر2019ء) سندھ میں دادو کے انتخابی حلقے پی ایس 86 ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کا پلڑا تاحال بھاری ہے، پیپلزپارٹی کے امیدوارسید صالح شاہ 19845 ووٹوں کے ساتھ آگے اور تحریک انصاف کے انتخابی امیدوارامدادعلی لغاری نے 8264 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔ سندھ میں دادو کے انتخابی حلقے پی ایس 86 کے 70 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوارسید صالح شاہ 19845 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں۔

جبکہ مدمقابل تحریک انصاف کے انتخابی امیدوارامداد علی لغاری نے 8264 ووٹ حاصل کیے ہیں۔تاہم ابھی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 86 دادو میں ووٹنگ کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ جس کے ساتھ ساتھ نتائج بھی آنا شروع ہوگئے ہیں۔

(جاری ہے)

پولنگ کا عمل جمعرات کو صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک جاری رہا۔ ترجمان الیکشن کمیشن نے واجح کہا تھا کہ پولنگ کا دورانیہ نہیں بڑھایا جائے گا البتہ وہ تمام ووٹرز جو احاطہ پولنگ سٹیشن کے اندر ہوں گے ان کو قانون کے مطابق 5 بجے کے بعد بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ متعدد شکایتوں اور احتجاج کے باوجود الیکشن کمیشن نے پھر پی ایس 86 کے ضمنی انتخابات میں فوج کو تعینات کردیا۔ ٹویٹر پراپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ فوج کو پی ایس 86 کے پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر تعینات کیا گیا۔ گزشتہ عام انتخابات میں جب پہلی بار فوج کی پولنگ اسٹیشنوں میں تعیناتی ہوئی تو پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا تھا۔ پولنگ اسٹیشنوں میں تعیناتی کے غیرضروری اقدامات فوج کو متنازعہ بناتے ہیں۔