Live Updates

حکومت کی اپوزیشن کو دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی پیشکش

وزیراعظم کی اسد قیصر کو اپوزیشن کے ساتھ ملکرٹی اوآرز بنانے کی ہدایت، حلقے کھلوانے ہیں تو وزیراعظم جوڈیشل کمیشن پر بھی اتفاق کررہے ہیں۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات نومبر 20:31

حکومت کی اپوزیشن کو دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 نومبر2019ء) حکومت نے اپوزیشن کو عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی پیشکش کردی۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ حلقے کھلوانے ہیں تو وزیراعظم جوڈیشل کمیشن پر بھی اتفاق کررہے ہیں،وزیراعظم نے اسد قیصر کو اپوزیشن کے ساتھ ملکرٹی اوآرز بنانے کی ہدایت بھی کردی ہے۔

سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کیلئے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سینئرممبرچودھری پرویز الٰہی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن میں فوج کا کردار مثبت ہوتا ہے۔میں نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات سے متعلق حکومتی کمیٹی کو بریف کیا ہے۔کمیٹی کو معاملات میں رکاوٹ بننے والی چیزوں سے بھی آگاہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

کچھ باتوں پر تحفظات ہیں، صورتحال دن بدن بہتری ہورہی ہے۔ کمیٹی بھی کوشش کررہی ہے کہ معاملہ جلد حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن نتائج پر تحفظات کیلئے متعلقہ فورمز موجود ہیں، حلقے کھلوانے ہیں تو وزیراعظم جوڈیشل کمیشن پر بھی اتفاق کررہے ہیں۔نوازشریف نے بھی احتجاج کے باوجود پانچ سال پورے کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ دھرنے کا سب سے زیادہ فائدہ یہ ہو اہے کہ ہم نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ آپ قومی اسمبلی میں نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود آپ اپوزیشن لیڈر ہیں۔

چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ مولانا کا کرتارپور راہداری پرخدشہ درست ہے کہ پاسپورٹ کے بغیر کسی کو نہ آنے دینا چاہیے۔اس طرح کو شاید بھارت بھی کسی کو داخل نہیں ہونے دے گا۔لہذا حکومت کو بھی چاہیے کہ پاسپورٹ ایک دستاویزہے ، ان کو نہیں آنے دینا چاہیے، جبکہ سکھ یاتریوں کوباقی ان کو تمام سہولتیں ملنی چاہئیں۔ دوسری جانب سربراہ جے یوآئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں بتایا کہ حکومت ہمارے مطالبات سے متعلق ابھی تک سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی۔

کھلے عام دھاندلی کی تحقیقات نہیں ہوسکتیں، نہ ہی ایسا قابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے استعفا نہیں دینا نہ دیں، لیکن تین ماہ میں الیکشن کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے کے دوران چودھری برادران کے گھر گیا، اب وہ آرہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو تجربہ رکھتے ہیں ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا جبکہ نااہلوں کو لاکر حکومت میں بٹھا دیا گیا۔ یہ خود بڑے چور ہیں اور پتھر کا دل رکھتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو ناجائز طور پر جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔ میری درخواست ہے سب آصف زرداری اور نوازشریف کیلئے دعا کریں۔
مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ختم سے متعلق تازہ ترین معلومات