سعودی شاہی خاندان پر جاسوسی کرنے کا الزام عائد

امریکی عدالت میں تین مشتبہ افرادکو گرفتار کر کے مقدمہ دائر کر دیا گیا

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ نومبر 06:58

سعودی شاہی خاندان پر جاسوسی کرنے کا الزام عائد
واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 نومبر2019ء)   ٹوئٹر اور فیس بک سمیت کئی سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کے ذریعے شہریوں کی جاسوسی کی جاتی ہے یہ بات تو بہت پہلے منظر عام پر آ چکی ہے تاہم دنیا کی کئی طاقتور ایجنسیاں اپنے مخالفین اور دیگر ممالک کی جاسوسی کرنے کے لیے ان سوشل میڈیا سائٹس کا بڑے پیمانے پر استعمال کر تی ہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعے جاسوسی کرنے کا الزام اب سعودی عرب پر بھی لگ گیا ہے جہاں امریکی عدالت نے تین ایسے لوگوں پر مقدمہ چلایا ہے جو سعودی شاہی خاندان کے لیے جاسوسی کا کام انجام دے رہے تھے۔

امریکی عدالت نے دو ٹوئٹر ملازمین سمیت 3 افراد پر سعودی عرب کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے حکومت اور شاہی خاندان پر تنقید کرنے والے انٹرنیٹ صارفین کی جاسوسی کے لیے ٹوئٹر ملازمین کو بھرتی کیا۔

(جاری ہے)

سان فرانسسکو کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک مقدمے کے دوران بتایا گیا کہ سعودی حکام نے شاہی خاندان پر تنقید کرنے والے پرائیویٹ ٹوئٹر اکائونٹس، ان کے ای میل ایڈریس اور صارفین کی لوکیشن کا پتہ چلانے کے لیے ماہر ٹوئٹر ملازمین کو بھرتی کیاگیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ٹوئٹر ملازمین کو ایسے صارفین کا پتہ لگانے کی ذمہ داری سونپی جو میڈیا سے وابستہ بڑی شخصیات ہوں اور ان کے 10 لاکھ سے زائد فالوورز ہوں لیکن کسی کا نام نہیں بتایا گیا۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق دو سعودی اور ایک امریکی شہری سعودی حکومت اور شاہی خاندان کی ایما پر تنقید کرنے والے ٹوئٹر اکائونٹس کے مالکان کا پتہ لگاتے تھے۔

امریکی عدالت کے مطابق ان ٹوئٹر ملازمین کو ایک اعلیٰ سعودی آفیشل ہدایات جاری کرتا تھا جس کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ طور پر سعودی شاہی خاندان کا فرد ہے۔امریکی عدالت نے جن تین افراد پر جاسوسی کی فرد جرم عائد کی ہے ان میں ٹوئٹر کے دو سابق ملازمین علی الزبارہ اور احمد ابو عمو کے علاوہ امریکی شہری احمد المطیری شامل ہے۔