پنجاب بھر میں فصلوں کی باقیات اور کوڑا جلانے پر 31دسمبر تک پابندی

جمعہ نومبر 16:48

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 نومبر2019ء) محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ رواں برس سموگ سے بچاؤ کے اقدامات کے پیش نظر کاشتکار پرالی اور مڈھوں کو آگ لگا کر ختم کرنے کی بجائے ڈسک ہیر چلا کر زمین میں دبا رہے ہیں جس سے زمین کی زرخیزی اور نامیاتی مادہ کی مقدار میں اضافہ ہورہا ہے۔ زرعی ترجمان نوید عصمت نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ محکمہ داخلہ پنجاب نے نوٹیفیکیشن کے ذریعے فصلوں کی باقیات، میونسپل سالڈ ویسٹ، ٹائرز، پلاسٹک، پولیتھین اور بیگز، ربڑ اور لیدر آئٹمز کو جلانے پریکم اکتوبر سے 31دسمبر 2019 تک دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔

دھان اور کماد کے مڈھوں کو آگ لگانے سے زمین کی بالائی سطح میں موجود نامیاتی مادہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سموگ کے نقصانات سے زیادہ تر بڑے اور صنعتی شہرمتاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایسا ایندھن استعمال کیا جائے جو لیڈ اور سلفر سے پاک ہو۔ بسوں اور گاڑیوں سے سفر کریں جبکہ ذاتی گاڑیوں کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔ رہائشی کالونیاں، گلیاں، سکول، ہوٹل، گرائونڈاور ہسپتال مصروف شاہراہوں سے فاصلہ پر تعمیر کئے جائیں۔

مصروف گلیوں اور سڑکوں کے ساتھ ساتھ پودے لگا دینے چاہئیں تاکہ پودے ہوا سے نمی، کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اور دوسرے ذرات وغیرہ کو جذب کر لیں اور تازہ آکسیجن پیدا کرتے رہیں۔ کارخانے اور گندگی وغیرہ کے ڈسپوزل شہروں اور فصلات سے دور ہونے چاہئیں۔اانہوں نے کہا کہ سموگ کے دنوں میں بچے اور بڑے ڈاکٹر سے رجو ع کرتے رہیں اور اپنا اور بچوں کا گاہے بگاہے طبی معائنہ بھی کرواتے رہنا چاہئے۔ چین میں سموگ پر قابو پانے کے لیے استعمال ہونے وا لے سموگ ٹاورز پاکستان میں بھی سکولوں، کالجوں اور دفاتر کے نزدیک استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ سموگ کے زہریلے اثرات کو ختم کرنا انسان کے بس سے باہر ہے مگر اس کے اثرات کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔