وزیراعلیٰ خیبرپختونخو اکی ترقیاتی سکیموں کی تکمیل میں تاخیر سے اجتناب کی ہدایت

جمعہ نومبر 19:21

وزیراعلیٰ خیبرپختونخو اکی ترقیاتی سکیموں کی تکمیل میں تاخیر سے اجتناب ..
پشاور۔08 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 نومبر2019ء) وزیراعلی خیبرپختونخو امحمود خان نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2019-20کے تحت جاری شدہ فنڈز کے استعمال کوبروقت یقینی اور ترقیاتی سکیموں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ جن محکموں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اور جاری ترقیاتی فنڈز کو بروقت بروئے کار نہیں لا سکتے تو وہ وقت پر متعلقہ محکمہ کو آگاہ کرے تاکہ وہی ترقیاتی فنڈ ز بروئے کار لانے کیلئے دوسرے محکموں کومنتقل کئے جاسکے، ترقیاتی سکیموں کی تکمیل اور فنڈز کے بروقت اور شفاف استعمال میں کسی قسم کے تاخیری حربے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔

انہوں نے تکمیل کے قریب سکیموں کو پہلی فرصت میں مکمل کرنے جبکہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال کو مجوزہ ٹائم لائن کے اندر اندر بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے ۔

(جاری ہے)

وزیراعلی نے کہا ہے کہ تمام بڑے اور اہم محکموں کو سو فیصد ترقیاتی فنڈز جاری کئے جائیں گے ، جبکہ ان محکموں کو ترجیحی سکیموں پر کام تیز کرنے کے لئے ایکسر سائز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ان سکیموں کو فنڈز کی فراہمی جلد یقینی بنائی جاسکے۔

باقی تمام محکموں کو ضرورت کے مطابق فنڈز جاری کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بیرونی امداد سے مختص فنڈ ز کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلی نے قبائلی اضلاع کے لئے ایس ای نیز کی منظوری میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ واضح کیا ہے کہ تمام محکمے پی سی ون اور دیگر زیر التواامور کوجلد از جلد مکمل کرے۔ انہوں نے ترقیاتی فنڈز کے بروقت استعمال ، ترقیاتی سکیموں پر پیش رفت کے حوالے سے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر ایک ماہ بعد دوبارہ جائزہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی ہے ۔

وہ سول سیکرٹریٹ کے کیبنٹ روم میں صوبائی بشمول قبائلی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ اجلاس میں وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا ، وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ ، ایس ایم بی آر ، رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ ، تمام انتظامی سیکرٹریز ، سپیشل سیکرٹری فنانس قبائلی اضلاع ، ڈی جی ایم اینڈ ای، پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ ، سی ای ورکس اینڈ سروسز برائے قبائلی اضلاع و دیگر اعلی حکام نے شرکت کی ۔

اجلاس کو صوبے بشمول قبائلی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2019-20 ، تمام محکموں کے ترقیاتی سکیموں پر پیش رفت، جاری شدہ فنڈز اوران کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس کو پورے صوبے بشمول قبائلی اضلاع میں شعبہ جاتی فنانشل پراگرس کے حوالے سے بھی بتایا گیا جبکہ سیکٹروائز پراگرس پر بھی تفصیلا آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو تمام محکموں کو ترقیاتی سکیموں کیلئے مختص فنڈز اور اس پر اب تک کی پیشرفت کے حوالے سے بھی بتایا گیا ۔

بیرونی امداد ی بجٹ سے محکموں کو مختص فنڈز اور ان کے استعمال پر بھی بتایا گیا ۔اجلاس کو مختلف سمریز کی منظوری کے حوالے سے بھی تفصیلا بتایا گیا ۔ اسی طرح قبائلی اضلاع کی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں فنانشل پراگرس کے حوالے سے بھی بتایا گیا ۔اجلاس کو قبائلی اضلا ع کیلئے ترقیاتی سکیموں کی سمریز کی منظوری کی صورتحال پر بھی آگاہ کیا گیا ۔

اجلاس کو قبائلی اضلاع میں تیز تر عمل درآمد منصوبوں اور ان کیلئے مختص فنڈز پر بھی آگاہی دی گئی ،تیز تر عمل درآمد والے منصوبوں میں کل 20 محکمے شامل ہیں جن کیلئے کل 58,999.09 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ قبائلی اضلاع کیلئے جلد اثر انداز ہونے والے منصوبوں پر بھی اجلا س کو بتایا گیا ان میں کل 20 منصوبے شامل ہیں جن میں سے 19 کی منظوری ہو چکی ہے جبکہ 17 منصوبوں پر کام جاری ہے۔

اس موقع پر وزیراعلی نے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی سکیموں کے لئے درکار اراضی کی فراہمی اور جگہ کی نشاندہی کے لئے قبائلی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ، ایس ایم بی آر اور لوکل گورنمنٹ حکام کو ہوم ورک کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ قبائلی اضلاع کی ترقی میںوزیراعظم عمران خان خصوصی دلچسپی لے رہا ہے ۔ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل انتہائی اہم ہے جن محکموں کو سکیموں کی تکمیل میں مسئلے ہے وہ متعلقہ محکموں کے ساتھ مل بیٹھ کر ان مسائل کا فوری خاتمہ یقینی بنائے تاکہ قبائلی اضلاع کی ترقی میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے ۔

وزیراعلی نے قبائلی اضلاع کے میگا پراجیکٹس ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو اعلانات وزیراعظم عمران خان اور صوبائی حکومت نے قبائلی اضلاع کے لئے کئے ہیں ان کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔ انہوں نے محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کو قبائلی اضلاع میں یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز کے قیام کے حوالے سے پیش رفت پر جلد تفصیلی بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کی ہے اور عندیا دیا ہے کہ اس حوالے سے جلد اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

تمام قبائلی اضلاع کو صوبے سے منسلک کرنے کے لئے روڈ انفراسٹرکچر کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائیگا۔ وزیراعلی نے قبائلی اضلاع میں جلد اثر انداز ہونے والے منصوبوں کو مزید تیز کرنے جبکہ ایک ہفتے بعد اس حوالے سے جامع رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلی نے ہدایت کی ہے کہ تمام محکمے ترقیاتی سکیموں کے لئے مختص وسائل کا شفاف استعمال یقینی بناتے ہوئے اپنے ترقیاتی اہداف بر وقت مکمل کریں ۔

وزیراعلی کا کہنا تھا کہ پورے صوبے بشمول قبائلی اضلاع کی دیر پا ترقی کیلئے ترقیاتی سکیموں کو مجوزہ ٹائم لائن کے اندر اندر مکمل کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ قبائلی اضلاع کے عوام کی ترقی اور خوشحالی جلد ممکن بنائی جائے گی جس کیلئے جلد اثر انداز ہونے والے منصوبوں کی فوری تکمیل انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔