کاروبار کو مشکلات سے بچانے کیلئے بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ فوری واپس لیا جائے،صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس

جمعہ نومبر 19:53

کاروبار کو مشکلات سے بچانے کیلئے بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ فوری واپس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 نومبر2019ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید، سینئر نائب صدر طاہر عباسی اور نائب صدر سیف الرحمٰن خان نے کہا کہ گذشتہ دنوں نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 1.82روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے جس سے بجلی صارفین پر 24ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا اور پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی جبکہ عام آدمی کیلئے مہنگائی بڑھے گی لہذا انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاروباری طبقے اور عوام کو مزید مشکلات سے بچانے کیلئے بجلی کی قیمت میں اضافہ فوری واپس لیا جائے۔

انہوںنے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمت پہلے ہی زیادہ ہے جس وجہ سے کاروبار چلانا مشکل ہے ان حالات میں بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ معیشت کے مفاد میں نہیں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت بڑھنے سے مصنوعات مہنگی ہوں گی جس سے برآمدات کی ترقی متاثر ہو گی۔ محمد احمد وحید نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافہ، بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے کاروباری طبقہ پہلے ہی شدید مشکلات سے دوچار ہے اور ان حالات میں بجلی مزید مہنگی کرنا معیشت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت توانائی کی قیمت میں کمی لانے کے امکانات پر غور کرتی تا کہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوںکو بہتر فروغ ملے اور معیشت بحالی کی طرف گامزن ہو۔ تاہم انہوںنے کہا کہ کاروبار کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کی بجائے ایسے فیصلے کئے جا رہے ہیں جن سے کاروبار اور معیشت کیلئے مسائل میں اضافہ ہو گا۔

آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان زیادہ تر بجلی تیل کے ذرائع سے پیدا کرتا ہے جو بہت مہنگی پڑتی ہے اور کاروبار کی لاگت میں اضافے کا اہم سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پن بجلی اور شمسی توانائی سمیت قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے جو تیل کے مقابلے میں بہت سستی پڑتی ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت قابل تجدید ذرائع سے فائدہ اٹھا نے کی بھرپور کوشش کرے تا کہ صنعت و تجارت کو سستی بجلی فراہم ہونے سے کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کیلئے ضروری ہے کہ حکومت اس کے متعلقہ میٹریل اور ایکوپمنٹ پر ٹیکس اور ڈیوٹی کا خاتمہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ تیل سے پیدا ہونے والی بجلی ماحول کو بھی آلودہ کرتی ہے جبکہ قابل تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی ماحول دوستانہ ہے لہذا اس طرف ترجیحی بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہا کہ قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار بڑھانے سے حکومت کو بار بار پاور ٹیرف کو بھی نہیں بڑھانا پڑے گا لہذا حکومت ان ذرائع سے بجلی کی پیداوار پر خصوصی توجہ دے۔