کل ہمیں کہتے تھے، آج ان کی شلواریں گیلی ہورہی ہیں، خواجہ آصف

ہماری تلاشی لی گئی، آج اگر فارن فنڈنگ کی تلاشی لی جارہی ہے، تو کیوں ہندوستان کے پیسوں، منی لانڈرنگ اور شوکت خانم کے پیسوں کا حساب نہیں دیا جاتا؟ قومی اسمبلی میں اظہار خیال

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ نومبر 19:12

کل ہمیں کہتے تھے، آج ان کی شلواریں گیلی ہورہی ہیں، خواجہ آصف
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔08 نومبر2019ء) مسلم لیگ ن کے سینئر مرکزی رہنماء خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کل ہمیں کہتے تھے، آج ان کی شلواریں گیلی ہورہی ہیں، ہماری تلاشی لی ،آج اگر فارن فنڈنگ کی تلاشی لی جارہی ہے، تو کیوں ہندوستان کے پیسوں، منی لانڈرنگ اور شوکت خانم کے پیسوں کا حساب نہیں دیا جاتا؟ انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مقتدراداروں اور ایوان کو آنے والے وقت کی وارننگ دینا چاہتا ہوں کہاگر یہاں پر حقیقی جمہوریت قائم نہ ہوئی ، آئین کا احترام قائم نہ ہوا۔

روزانہ آئین سے روگردانی کی جاتی رہی، ادارے آئین کا احترام نہ کریں۔ہماری تلاشی لی ،آج اگر فارن فنڈنگ کی تلاشی لی جارہی ہے۔اس کو رکوانے کیلئے درخواستیں دی جا رہی ہیں، کل ہمیں کہتے تھے ان کی شلواریں گیلی ہورہی ہیں آج ان کی شلواریں گیلی ہورہی ہیں۔

(جاری ہے)

یہ پی ٹی آئی کے قائد کے الفاظ دہرا رہا ہوں۔یہ نیازی کے الفاظ ہیں، کیوں فارن فنڈنگ کا حساب نہیں دیتے؟کیوں ہندوستان سے جوپیسے آئے ان کا حساب نہیں دیتے، کیوں منی لانڈرنگ اور شوکت خانم کے پیسوں کا حساب نہیں دیتے؟تاہم اسپیکر قومی اسمبلی نے شلوارگیلی والے الفاظ کو حذف کروادیا۔

اس موقع پر مراد سعید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کے لوگ پروڈکشن آرڈر پر بات کرتے ہیں تو قانون سازی پر بات کیوں نہیں کی ماضی میں تمام اجلاس سردار ایاز صادق کے گھر ہوتے تھے،آپ تو سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے اقوام متحدہ میں مسلمانوں کا مقدمہ لڑا ہے۔ اسد قیصرنے کہاکہ ہم ختم نبوت پر کوئی لفظ برداشت نہیں کریں گے،ہمارے بچے بھی ناموس پر قربان ہیں۔

مراد سعید نے کہاکہ اگر کسی کو خطرہ تو کرپشن کو ہے اور انکی سیاست کو ہے،منی لانڈرنگ کے الزام آصف زرداری پر ہیں۔مراد سعید نے کہا کہ خواجہ آصف یو اے ای کا ملازم ہے،عمران خان پر یہ ایک بھی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتے۔اسپیکر کی جانب سے مراد سعید کو تقریر ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ بعد ازاں مراد سعید کی تقریر کے دوران اسپیکر نے اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر د یا ۔