جماعت اسلامی کا ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز میں 10فیصد تک کٹوتی پر تشویش کا اظہار

حکومت ہائیر ایجوکیشن کے فنڈز میں کٹوتی کرکے یونیورسٹیوں کو مالی طور پر غیر مستحکم کررہی ہے۔ یونیورسٹیوں کو فنڈز فراہم نہیں کئے جائیں گے تو وہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں کہاں سے دیں گی، امیر مشتاق احمد خان

جمعہ نومبر 22:09

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 نومبر2019ء) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے حکومت کی جانب سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز میں 10فیصد تک کٹوتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہائیر ایجوکیشن کے فنڈز میں کٹوتی کرکے یونیورسٹیوں کو مالی طور پر غیر مستحکم کررہی ہے۔ یونیورسٹیوں کو فنڈز فراہم نہیں کئے جائیں گے تو وہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں کہاں سے دیں گی۔

افراط زر کی شرح میں 20فیصد اضافے اور روپے کی قیمت میں کمی کو جمع کیا جائے تو یہ کٹوتی خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ حکومت ایچ ای سی کو فوری طور پر21 ارب روپے فراہم کرے تاکہ یونیورسٹیاں اپنے ملازمین کو تنخواہیں تو دے سکے۔ حکومت کے پاس اپنی شاہ خرچیوں اور بی آر ٹی جیسے ناقص منصوبوں کے لئے اربوں روپے ہیں لیکن اعلیٰ تعلیم کے لئے کوئی رقم نہیں۔

(جاری ہے)

حکومت تعلیم دشمنی کا مظاہرہ نہ کرے اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو فنڈز فراہم کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکزالاسلامی پشاور سے جاری کئے گئے بیان میں کیا۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ایچ ای سی کی طرف سے 2019-20 میں 103 ارب روپے کی بجٹ ڈیمانڈ کی گئی مگر حکومت کی جانب سے 59 ارب روپے بجٹ فراہم کیا گیا جبکہ صرف تنخواہوں کی ادائیگی 86.42 ارب روپے بنتی ہے۔

حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے بے شمار یونیورسٹیاں اگلے ماہ تنخواہ ادا نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم بنیادی شعبہ ہے اور ملک کی تمام یونیورسٹیوں کو مالی مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ان کی فروغ تعلیم اور ریسرچ کے شعبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔بجٹ میں کٹ کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان ان مسائل کا نوٹس لیں اور ایچ ای سی کو فوری طور پر 21 ارب روپے کی ادائیگی یقینی بنائیں۔