سکھ دھرم کے ماننے والوں کو کرتارپور راہداری کے ذریعے خیر سگالی کا پیغام دے رہے ہیں، وزیر خارجہ

یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان میں رواداری بھی ہے اور مذہبی آزادی بھی، ہندوستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور کشمیریوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی تک نہیں کرنے دی جا رہی شاہ محمود قریشی کی لاہور میں کرتارپور کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو

جمعہ نومبر 22:50

سکھ دھرم کے ماننے والوں کو کرتارپور راہداری کے ذریعے خیر سگالی کا پیغام ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 نومبر2019ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم سکھ دھرم کے ماننے والوں کو کرتارپور راہداری کے ذریعے خیر سگالی کا پیغام دے رہے ہیں، جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان میں رواداری بھی ہے اور مذہبی ا?زادی بھی۔ جمعہ کو سنگا پور سے واپسی کے بعد لاہور میں کرتارپور کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سنگاپور میں تھا جہاں کرتارپور راہداری کے حوالے سے ایک خصوصی تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا۔

اس نمائش میں پاکستان کے اندر سکھ دھرم کے جتنے اہم گوردوارے ہیں ان کی تصاویر شامل کی گئی تھیں۔مجھے اس تصویری نمائش کے افتتاح کا کہا گیا اور جب میں افتتاح کیلئے پہنچا تو سکھ برادری کے بہت سے لوگوں سے میری ملاقات ہوئی ان لوگوں کے اندر خوشی کے جو جذبات تھے وہ بیان سے باہر ہیں وہ پاکستان کے بے انتہا شکرگزار تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ا جب ایک طرف ہندوستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے کشمیریوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی تک نہیں کرنے دی جا رہی ، یہ ان کا رویہ ہے جو دنیا دیکھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف ہم سکھ دھرم کے ماننے والوں کو کرتارپور راہداری کے ذریعے خیر سگالی کا پیغام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی طرف سے مسلسل تنگ نظری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ہم نے ریکارڈ کم مدت میں کرتارپور راہداری منصوبے کو مکمل کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ(ا?ج) 9 نومبر کو وزیر اعظم عمران خان کرتارپور راہداری کا افتتاح کر کے سکھ برادری سے کیے گئے وعدے کی تکمیل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ نو، دس ماہ کی قلیل مدت میں گوردوارہ کرتارپور پر کام مکمل ہو جائے گا اور ہندوستان رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باوجود اس معاہدے پر دستخط کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔

اس راہداری کی افتتاحی تقریب میں ہم نے بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھی مدعو کیا اور ان کا تحریری جواب بھی مجھے موصول ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ضرور ا?نا چاہیں گے لیکن ایک عام یاتری کی حیثیت سے ، وہ جس بھی حیثیت میں یہاں آئیں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔انہوں نے کہا کہ بابا گرونانک کے پانچ سو پچاسویں جنم دن کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی طرف سے خصوصی رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہم سکھ دھرم کے ماننے والوں کو کرتارپور راہداری کے ذریعے خیر سگالی کا پیغام دے رہے ہیں،یہ خیر سگالی کا پیغام اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان میں رواداری بھی ہے اور مذہبی آزادی بھی۔