آری پیر ٹو سارونہ بلیک ٹاپ روڈ اسکیم کی دیگر علاقے میں منتقلی کیخلاف سارونہ کے مکین سڑکوں پر نکل آئے

بینرز اور پلے کارڈز اٹھاکر لسبیلہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا

جمعہ نومبر 23:38

لسبیلہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 نومبر2019ء) آری پیر ٹو سارونہ بلیک ٹاپ روڈ اسکیم کی دیگر علاقے میں منتقلی کے خلاف سارونہ کے مکین سڑکوں پر نکل آئے بینرز اور پلے کارڈز اٹھاکر لسبیلہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ،پُر ہجوم پریس کانفرنس ،مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینزر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آر ی پیرٹو سارونہ 30کلو میٹر بلیک ٹاپ روڈ اسکیم کی خضدار کے علاقے میں منتقلی کے خلاف نعرے تحریرتھے مظاہرین کا وزیر اعظم عمران خان ،وزیر اعلیٰ جا م کمال خان ،ایم این اے سردار اختر مینگل سے نوٹس لینے کا مطالبہ اس موقع پر سارونہ کے مکین غلام رسول میراجی مینگل ،بشیر احمد میراجی مینگل ،عبدالعزیز مینگل ،جمیل گچکی ،بشیر مینگل نے دیگر علاقہ معززین کے ہمراہ لسبیلہ پریس کلب حب میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سارونہ ڈسٹرکٹ خضدار کا سب سے پسماندہ ترین علاقہ جوکہ خضدار سی250کلومیٹر اور حب شہر سے تقریباً180کلو میٹر کی دوری پر انہتائی سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان میں واقع ہے اور پسماندگی کا شکار ہے زندگی کی تمام بنیادی سہولیات سے یکسر محروم ہے یہاں پر نہ تو کوئی ہسپتال ہے اور نہ ہی معیاری تعلیم کی سہولیات دستیاب ہے جبکہ کوئی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس 21ویں صدی میں بھی مریض کو چار پائی میں رکھ کر 20سے 30کلو میٹر پیدل سفر کرنے کے بعد روڈ پر پہنچ پاتے ہیں او ر وہاں سے ٹرک اور دوسری پتھر سے لوڈ گاڑیوں میں مریضوں کو سوار کر کے حب شہر پہنچنے کی کوشش کر تے ہیں اور اکثر و بیشتر ہمارے مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں جبکہ بچنے کی صورت میں مزید تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں انھوں نے کہاکہ موجودہ صوبائی گورنمنٹ نے ہمارے منتخب ایم این اے سردار اختر جان مینگل،ایم پی اے خضدار کی کاوشوں سے ہاری پیر ٹو سارونہ 30کلو میٹر بلیک روڈ کی منظوری دی جس کی مالیت تقریباً35کروڑ روپے بنتے ہیں سال 2019-20کی بجٹ کے PSDPنمبر 2019007سیریل نمبر122اور صفحہ نمبر 22ایف 214میں آری پیر ٹو سارونہ بلیک ٹاپ روڈ کی منظوری دی گئی تھی جس کا سن کر علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ سارونہ کے مکینوں کا ایک دیرینہ مسئلہ حل ہونے کوہے اور روڈ کی تعمیر ہونے کے بعد سارونہ کے مکین بآسانی حب شہر اور کراچی کا سفر کر سکیں گے انھوں نے کہاکہ ڈسٹرکٹ خضدار بلکہ بلوچستان کے سب سے زیادہ معدنیات بھی سارونہ میں موجود ہے یہاں سے بآسانی مارکیٹ بھی پہنچیں گے لیکن اب شنید میں آرہا ہے کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے مذکورہ بلیک روڈ اسکیم کو کسی اور علاقے میں منتقل کیا جارہا ہے اسے عمل کو کسی بھی برداشت نہیں کرینگے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ آری پیر ٹو سارونہ پختہ سڑک اسکیم کو محکمہ معدنیات کی توسعت سے صوبائی حکومت میں شامل کیا گیا ہے لیکن ایک سازش کے تحت اس اسکیم کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کسی اور علاقے میں منتقل کیا جارہا ہے انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا خضدار سے وزیر اعلیٰ کے مشیر کی ایماپر مذکورہ اسکیم کو دوسرے علاقے میں کرنے کی سازش کی گئی ہے ایک تو 70سالوں سے سارونہ ترقیاتی منصوبوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی حوالے سے محروم ہے تو دوسری جانب 70سال بعد آری پیر تا سارونہ 35کروڑ روپے کی لاگت سے پختہ سڑک تعمیر کیلئے بجٹ منظور ہوا ہے اس پر روڑے اٹھکائے جارہے ہیں انھوں نے کہاکہ اگر مذکورہ اسکیم کو یہاں سے کسی اور علاقے میں منتقل کیا گیا تو سارونہ سے معدنیات سے گاڑیاں بھی لنگ لوہار چیک پوسٹ پر ٹیکس نہیں دینگے اور علاقائی معززین ومعتبرین سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے انھوں نے وزیر اعظم خان ،وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ،ایم این اے سردار اختر مینگل اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے آری پیر تا سارونہ 35کروڑ روپے کی پختہ سڑک کی منظوری کے بعد اسے دوسرے علاقے میں منتقل کرنے کا نوٹس لیں ۔