اخبار کی جانب سے اپنے اداریئے میں معاشی اشاریوں کے متعلق بعض اعداد و شمار حقیقت کے برعکس ہیں،وفاقی وزیر محمد حماد اظہر کے بیانیہ کے متعلق منفی تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہیں

ترجمان وزارت خزانہ کی وضاحت

جمعہ نومبر 23:39

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 نومبر2019ء) وزارت خزانہ نے ایک اخبار کی جانب سے اپنے اداریئے میں معاشی اشاریوں کے متعلق بعض اعداد و شمار کو حقیقت کے برعکس قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر اقتصادی امور ڈویژن محمد حماد اظہر کے بیانیہ کے متعلق منفی تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر نے حکومت کے آفیشل ترجمان کی حیثیت سے معیشت کے حوالے سے تمام وزارتوں کا مشترکہ نکتہ نظر پیش کیا ہے۔

جمعہ کو وزارت خزانہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کراچی کے ایک اخبار نے 7 نومبر 2019ء کو شائع ہونے والے اپنے اداریہ میں وفاقی وزیر پر ناقص بیانیہ جاری رکھنے کا الزام عائد کیا ہے جو کہ حکومتی ترجمان کے بیانیہ کے حقیقی تجزیئے کی بجائے محض ذاتی نوعیت خیالی لفاظی پر مشتمل ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ اداریئے میں بعض عمومی دعوے کئے گئے ہیں جو حقیقی اعداد و شمار پر نہیں بلکہ غلط معلومات اور عام بیانات پر مبنی ہیں۔

اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے پہلے سال میں افراط زر کے اعداد و شمار کا پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے ساتھ موازنہ مناسب نہیں جبکہ وفاقی وزیر نے احتجاج کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو یہ یاد دہانی کرائی ہے کہ ان کے اپنے ادوار میں افراط زر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے 13 ماہ کی نسبت زیادہ تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اخبار کی جانب سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے ایس ایم ای شعبہ پر اثرات کے حوالے سے دعوے بھی اعداد و شمار پر مبنی نہیں۔ سٹاک مارکیٹ اگست کے بعد سے 6500 پوائنٹس بڑھی ہے جبکہ اخبار کے ایڈیٹوریل میں 500 پوائنٹس رپورٹ کئے گئے ہیں۔ اسی طرح مالی سال 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں مالی خسارہ میں بہتری کا پچھلے سال سے موازنہ کرنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے حالانکہ یہ رائج طریقہ کار ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پہلے سال بیرونی خسارہ میں 32 فیصد تک کی کمی کی ہے۔ اب حکومت رواں سال مالیاتی کنسولیڈیشن پر توجہ دیئے ہوئے ہے۔ پہلی سہ ماہی کا مالیاتی خسارہ 0.7 فیصد ہے جو گزشتہ سال 1.4 فیصد تھا۔ اس رجحان کا باخبر تجزیہ کار بھی اعتراف کر رہے ہیں۔ ایڈیٹوریل نے بذات خود استحکام کے عمل میں آسانی کے لئے مناسب فیزنگ کو درست حکمت عملی کے طور پر بیان کیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اداریئے میں برآمدات کے حجم میں اضافے کا دعویٰ متنازعہ ہے جس کے مطابق یہ زیادہ تر چین کی جانب سے چاول کی درآمد میں اضافے سے منسلک ہے۔ برآمدات کے حجم کے حوالے سے گزشتہ سال اور رواں سال کے اعداد و شمار اس دعویٰ کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال مجموعی برآمدات کا حجم 12 فیصد تک بڑھا تھا جس میں کاٹن کلاتھ کی برآمد 16.61 فیصد، بیڈ ویئر کی برآمد 8.18 فیصد، ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمد 32.77 فیصد اور نیٹ ویئر کی برآمد 15.52 فیصد تک بڑھی اور یہ پاکستانی برآمدات کا 40 فیصد ہیں۔

مالی سال 2020ء کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار برآمدات میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں اس لئے تمام برآمدات کے حجم کی نمو کو محض چین کی جانب سے چاول درآمد سے منسلک کرنے کا دعویٰ اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتا، اس طرح اخبار کا تجزیہ جانبداریت کو ظاہر کرتا ہے۔ گردشی قرضے میں کمی کے حوالے سے اخبار کے اداریئے میں کئے گئے دعوے کی وضاحت کرتے ہوئے ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے آخری سال میں گردشی قرضہ اوسطاً 38 ارب روپے ماہانہ تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے پہلے سال میں یہ اوسطاً 27.8 ارب روپے تک کم ہوا۔

وزارت توانائی نے ان اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اخبار نے ذاتی نوعیت کے حملے کرتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر کو خالصتاً ایک وکیل کے طور پر پیش کیا ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کیا ہے کہ انہوں نے سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز یونیورسٹی آف لندن سے ڈویلپمنٹ اکنامکس میں گریجوایشن کی تھی۔