․چاول کی کاشت اور برداشت کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استفادہ سے چاول کی برآمدات میں 5 ارب ڈالر تک اضافہ ممکن ہے ، سمیع اللہ نعیم

ہفتہ نومبر 09:55

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 نومبر2019ء) چاول کی کاشت اور برداشت کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استفادہ سے چاول کی برآمدات5 ارب ڈالر تک بڑھائی جاسکتی ہیں۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان(ریپ) کے سابق چیئرمین سمیع اللہ نعیم نے کہا ہے کہ چاول کی کاشتکاری اور کٹائی کیلئے جدید مشینری کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ بردارشت کے نقصانات کو بھی کم کیا جاسکتا ہے جس سے بر آمدات کے حجم کو5 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت فی ایکڑ50 تا60 ہزار پودے کاشت کئے جاتے ہیں جبکہ چاول کی پنیری کو منتقل کرنے کیلئے ٹرانس پلانٹر کی مدد سے فی ایکڑ پودوں کی تعداد ایک لاکھ تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح کھیت کو لیول کرکے پانی کی بچت بھی کی جاسکتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پانی کی 30یفصد بچت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاری کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استفادہ سے چاول کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کئے بغیرہم بآسانی پیداوار میں20فیصد اضافہ کر سکتے ہیں اسی طرح برداشت کے دوران جدید ہارویسٹرز کے استعمال سے نقصانات سے بچا جاسکتا ہے اور چاول کو خشک کرنے کے روایتی طریقوں کی بجائے ٹیکنالوجی کے استعمال سے نقصانات میں10 فیصد کمی لائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاول کی کاشتکاری اور برداشت سمیت خشک کرنے اور شیلنگ کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سے قومی برآمدات کو بآسانی5 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔