خام مال اور مشینری کی درآمد پرامپورٹ ٹیرف سے صنعتی شعبے کی ترقی متاثر ہو رہی ہے، کمی کی جائے

آئی سی سی آئی کے صدر محمد احمد وحید ودیگر کی اپیل

ہفتہ نومبر 15:06

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 نومبر2019ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد احمد وحید، سینئر نائب صدر طاہر عباسی اور نائب صدر سیف الرحمٰن خان نے کہا ہے کہ صنعتی خام مال اور مشینری کی درآمد پر 3 سی20 فیصد تک امپورٹ ٹیرف عائد ہے جس سے صنعتی شعبے کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایک بیان میں کیا۔

انہوںنے حکومت سے اپیل کی کہ وہ صنعتی خام مال اور مشینری پر عائد امپورٹ ٹیرف میں کمی کرے تا کہ پیداواری لاگت کم ہو اور صنعتی شعبہ برآمدات کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کر سکے جس سے معیشت تیزی سے بحال ہوگی۔ انہوںنے کہا کہ صنعتی شعبے کو جدید خطوط پر ترقی دینے اور ویلیو ایڈیڈ مصنوعات تیار کرنے کیلئے صنعتی مشینری کی درآمد پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں بھی کمی ضروری ہے، اس سے عالمی مارکیٹ میں ہماری برآمدات کو فروغ ملے گا۔

(جاری ہے)

چیمبر کے عہدیدارن نے کہا ترقی پذید ممالک کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ جن ممالک نے امپورٹ ٹیرف کو کم کیا اور ٹریڈ لبریلائزیشن کو فروغ دیا انہوںنے تیزی سے معیشت کو بہتر کیا جبکہ جن ممالک نے امپورٹ ٹیرف میں اضافہ کیا ان کی معاشی ترقی بہت متاثر ہوئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پچھلی دہائی کے دوران برآمدات کو تیزی سے فروغ دینے والے ممالک نے امپورٹ ٹیرف میں واضع کم کر کے یہ کامیابی حاصل کی اور ان میں سے بعض نے امپورٹ ٹیرف میں50 سے 70 فیصد تک کمی کی ہے۔

محمد احمد وحید نے کہا کہ پاکستان میں ٹیرف لبریلائزیشن نے برآمدات کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کیا ہے کیونکہ 2001ء میں پاکستان کا امپورٹ ٹیرف 20 فیصد سے زائد تھا جس کو 2014ء تک کم کر کے تقریبا 9 فیصد تک لایا گیا اور اس عرصے میں ہماری برآمدات 9.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 25 ارب ڈالر سے تجاویز کر گئی تھیں، اس طرح برآمدات میں اس عرصے میں 170 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تاہم 2014ء کے بعد امپورٹ ٹیرف میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے ہماری برآمدات میں بھی کمی واقع ہوتی رہی۔

آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان کی کل ٹیکس آمدن میں امپورٹ ٹیرف کا حصہ تقریبا 13 فیصد ہے جو بہت زیادہ ہے جبکہ اس کے برعکس ملائشیا کی کل ٹیکس آمدن میں امپورٹ ٹیرف کا حصہ 1.6 فیصد، ترکی میں 2 فیصد، انڈونیشیا میں 2.5 فیصد، جنوبی کوریا میں 3.9 فیصد، تھائی لینڈ میں 4.3 فیصداور چین میں 4.6 فیصد ہے۔