مودی حکومت نے کشمیر اور ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق کی دھجیاں اڑادیں ہیں‘محمد جاوید

بابری مسجد کے حوالے سے بھارتی سپریم کافیصلہ شرمناک، کرتار پور راہدی منصوبے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش ہے‘امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب

ہفتہ نومبر 15:11

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 نومبر2019ء) امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب وصدر ملی یکجہتی کونسل وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے بابری مسجد کے حوالے سے 6 اکتوبر کا محفوظ فیصلہ جوسنایا ہے اس سے سار ی دنیا میں بھارتی نظام عدل اور حکومت دونوں پر تعصب، جانبداری اور اقلیتوں کے حقوق پر شب خون مارنے کا تاثر بڑے وا ضح انداز میں گیا ہے۔

بابری مسجدکو 6دسمبر1992میں انتہا پسند ہندوئوں نے شہید کردیا تھا۔ ہندوستانی سپریم کورٹ نے کرتار پور راہدری کو سبوتاژ کرنے کے لیے مودی حکومت کے دبائو پر چھٹی کے روز فیصلہ سنا کر ثابت کردیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق محفوظ نہیں۔ اور اس ضمن میں بھارتی عدلیہ بھی حکومت کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑی ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ منصورہ میں اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں یہ اعتراف کرتی ہے کہ مندر کو منہدم نہیں کیا گیا اور بابری مسجد کی شہادت قانون کی خلاف ورزی ہے تو دوسری طرف ہندوئوں کو رام مندر تعمیر کرنے کا حکم صادر کیا جاتا ہے۔ بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جنوبی ایشیا کے حالات خراب کررہا ہے۔ مسئلہ کشمیر سے لے کر اقلیتوں کی آزادی تک بھارت نے شرمناک کردار ادا کیا ہے۔

گریٹر بھارت کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کی خاطر مودی حکومت نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ہے۔ بھارت میں مسجد، چرچ، گوردوارے کچھ بھی محفوظ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کو بھارت کی انتہا پسندی کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کہاں ہیں آج عالمی امن کا راگ آلاپنے والے ممالک، این جی اوز اور اقوام متحدہ کی کمیٹیاں ۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ہندوستان نے دنیا میں جو نفرت کا بیج بویا ہے اس کے نقصانات سے بچنا آسان نہیں ہوگا۔ نفرت کی سیاست مودی کے انجام کا پتہ دیتی ہے۔ ضروت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان اس سارے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے اور بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لایا جائے۔