بابری مسجد کیخلاف انڈیا سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل مذمت و مسلم اٴْمّہ کیلئے تکلیف دہ ہے، رحمن ملک

بابری مسجد کیخلاف انڈیا سپریم کورٹ کا فیصلہ آر ایس ایس و بی جے پی کے منشور کا تسلسل ہے، سینیٹر پیپلز پارٹی کا بیان

ہفتہ نومبر 15:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 نومبر2019ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمن ملک نے کہا ہے کہ بابری مسجد کیخلاف انڈیا سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل مذمت و مسلم اٴْمّہ کیلئے تکلیف دہ ہے۔ ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ بابری مسجد کیخلاف انڈیا سپریم کورٹ کا فیصلہ آر ایس ایس و بی جے پی کے منشور کا تسلسل ہے۔ انہوںنے کہاکہ بابری مسجد کیخلاف بابا گورونانک کے جنم دن کے موقع پر امن دشمن فیصلہ سکھوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنا تھا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ پاکستان نے سکھ برادری کیساتھ مذہبی رواداری کیلئے کرتارپور راہدری کھلی جو مودی سرکار کو پسند نہیں۔انہوںنے کہاکہ بابری مسجد کیخلاف فیصلہ مسلم کش و بھارت کی دیگر اقلیتوں کیخلاف ہندوتوا کی منشور کا عملی نمونہ ہے۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم مودی نے اعلٰی عدلیہ کے ذریعے اپنی انتہا پسند ہندو تنظیم راشتریا سوائم سیوکہ سنگ کیساتھ کیا گیا وعدہ پورا کیاانہوںنے کہاکہ کشمیر کا انضمام و بابری مسجد کیجگہ مندر کی تعمیر بی جے پی اور آر ایس ایس کا الیکشن ایجنڈہ تھا۔انہوںنے کہاکہ مودی سرکار بھارت کو ہندوراشترا بنانے کے آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔انہوںنے کہاکہ مودی سرکار بھارت سے مسلم، سکھ و دیگر اقلیتوں کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔