دنیا مذہبی باہمی احترام کا عملی مظاہرہ دیکھ رہی ہے،برصغیر میں نفرت کے بیج کون بو رہا ہی شاہ محمود قریشی

خطے میں نفرت کا ذمہ دار کون ہے، اس پر غور کرنا چاہیے،موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سری نگر کی جامعہ مسجد میں نماز کی اجازت دیں، آپ وزیراعظم عمران خان کو بھی شکریہ کا موقع دیں ، اگر کرتارپور راہداری کھل سکتی ہے تو لائن آف کنٹرول کی عارضی حد بندی کیوں نہیں کھل سکتی، کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب

ہفتہ نومبر 16:28

دنیا مذہبی باہمی احترام کا عملی مظاہرہ دیکھ رہی ہے،برصغیر میں نفرت ..
کرتارپور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 نومبر2019ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہاہے کہ دنیا مذہبی باہمی احترام کا عملی مظاہرہ دیکھ رہی ہے،برصغیر میں نفرت کے بیج کون بو رہا ہی خطے میں نفرت کا ذمہ دار کون ہے، اس پر غور کرنا چاہیے،موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سری نگر کی جامعہ مسجد میں نماز کی اجازت دیں، آپ وزیراعظم عمران خان کو بھی شکریہ کا موقع دیں ، اگر کرتارپور راہداری کھل سکتی ہے تو لائن آف کنٹرول کی عارضی حد بندی کیوں نہیں کھل سکتی۔

ہفتہ کو کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ آج کا دن ایک تاریخی دن دکھائی دے رہا ہے، ایک محبت کی راہداری کا افتتاح ہوا ہے، مذہبی باہمی احترام کے رشتے کا دنیا عملی مظاہرہ دیکھ رہی ہے، دنیا جہاں میں موجود سکھ کمیونٹی اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ ایک تاریخ رقم ہو رہی ہے، اس اقدام کیلئے تاریخ آپ کو یاد رکھے گی۔

بابا گرو نانک کا پیغام امن، شفقت اور محبت کا پیغام ہے جو صوفیائے کرام کا پیغام ہے اور اسی جذبے کے تحت میں سکھ کمیونٹی کو خوش آمدید کہتا ہوں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آج برصغیر میں نفرت کے بیج کون بو رہا ہی خطے میں نفرت کا ذمہ دار کون ہے، اس پر غور کرنا چاہیے، کاش امن کا پیغام کشمیر کی وادی میں بھی پہنچ جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان محبت کی راہداریاں کا سفر پہلے شروع ہوتا تو اس سفر کے لیے 72 سال کا سفر نہ کرنا پڑتا۔

انہوںنے کہاکہ یہ سنت محمدی ؐہے، قائد اعظم محمد علی جناح کا وژن ہے جس پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عمل پیرا ہے۔شاہ محمود قریشی نے بھارت کے وزیراعظم نے بھی 70 برس قبل ایک وعدہ کیا تھا جس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ 72 برس ہوگئے مقبوضہ کشمیر انصاف کے منتظر ہیں، ایک وعدہ ہم نے پورا کیا ایک آپ کریں۔انہوںنے کہاکہ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سری نگر کی جامعہ مسجد میں نماز کی اجازت دیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا والو! آپ کے سامنے برلن کی دیوار گر سکتی ہے اور یورپ کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے اور آج وہ دن ہے 9نومبر جب برلن کی دیوار گری، اگر کرتارپور راہداری کھل سکتی ہے تو لائن آف کنٹرول کی عارضی حد بندی کیوں نہیں کھل سکتی، جس طرح عمران خان نے آپ کو شکریہ کا موقع دیا ہے اس طرح آپ بھی وزیراعظم عمران خان کو شکریہ کا موقع دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں سکھ کمیونٹی کے لوگ یہاں آئے ہیں، دنیا بھر کے سکھوں کے لیے کرتار پور کھول دیا گیا ہے، بابا گرو نانک نے اپنی عملی زندگی سے خدمت کو فوقیت دی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرتار پور صاحب آج دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بن چکا ہے، موجودہ صدی کو ایشیاء کی صدی کہا جاتا ہے، کاش آج یہ محبت کا پیغام کشمیر کی وادی میں بھی پھیل جائے، ایک معاشی راہداری سی پیک ہے اور دوسری یہ محبت کی راہداری ہے۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے اور کرتار پور اس کا عملی ثبوت ہے، پاکستان میں گردوارے آباد ہیں، 400 مندروں کی نشاندہی کر دی گئی ہے، ان کی تزئین نو کی جائیگی، بابا گرونانک کے محبت کے بوئے بیج آپ کو آج یہاں گلدستے کی صورت دکھائی دے رہے ہیں، کرتار پور راہداری تبدیلی کا عملی ثبوت ہے۔