Live Updates

پاکستان مخالف نعرے، میڈیا ہاؤس حملہ کیس ،دہشتگردی کے مقدمات میں مدعی مقدمہ کا بیان قلمبند کرلیا

سربراہ تنظیم بحالی کمیٹی فاروق ستار، عامر خان، شاہد پاشا، قمر منصور اور گلفراز خٹک و دیگرانسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم کے استعفیٰ کے معاملے پر نظر ثانی کریں،مولانا کے دیگر مطالبات کو ماننا چاہیے،ڈاکٹر فاروق ستار کی میڈیا سے گفتگو

ہفتہ نومبر 17:42

پاکستان مخالف نعرے، میڈیا ہاؤس حملہ کیس ،دہشتگردی کے مقدمات میں مدعی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 نومبر2019ء) انسداد دہشتگردی خصوصی عدالت نے پاکستان مخالف نعروں، میڈیا ہاس پر حملے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دہشتگردی کے مقدمات میں مدعی مقدمہ کا بیان قلمبند کرلیا۔ آئندہ سماعت ملزمان کے وکلا کو جرح کریں گے۔کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے روبرو ایم کیو ایم رہنماں کیخلاف پاکستان مخالف نعروں، میڈیا ہاس پر حملے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دہشتگردی کے 2 مقدمات کی سماعت ہوئی۔

سربراہ تنظیم بحالی کمیٹی فاروق ستار، عامر خان، شاہد پاشا، قمر منصور اور گلفراز خٹک و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ پولیس افسر مدعی مقدمہ عبد الغفار عدالت میں پیش ہوا۔ مدعی مقدمہ عبد الغفار نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ 22 اگست والے روز ملزمان نے نجی چینل پر دھاوا بولا۔

(جاری ہے)

ملزمان نے نجی چینل کے دروازے توڑنے کے لئے فائرنگ کی۔ ملزمان کی فائرنگ سے انھیں کا کارکن جانبحق ہوا۔

تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت میں کیس پراپرٹی بھی پیش کردی کیس پراپرٹی میں جلی ہوئی سوزوکی، موٹر سائیکل، ٹنڈے و دیگر اشیا شامل تھی۔ آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکلا مدعی مقدمہ کے بیان پر جرح کریں گے۔ عدالت نے سماعت 23 نومبر تک ملتوی کردی۔ پولیس کے مطابق مدعی مقدمہ عبدالغفار جائے حارثہ کے وقت ایس ایچ او تھانہ آرٹلری تھے۔ ملزمان کیخلاف تھانہ آرٹلری میں دو مقدمات درج ہیں۔

ملزمان کیخلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمات درج ہیں۔ کیس میں عدالت بانی ایم کیو ایم سمیت 8 ملزمان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ 22 اگست 2016 کو ایم کیوایم کارکنوں کی ہنگامہ آرائی کے دوران ایک شخص جاں بحق اور کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کا شعبہ صحت اور طب بحران کا شکار ہے۔ وفاقی حکومت نے پی ایم ڈی سی کا ادارہ ایک آرڈیننس کے ذریعے اڑا دیا۔

یہ راتوں رات جو شب خون پی ایم ڈی سی پر مارا گیا اس سے کئی لوگ بیروزگار ہو گئے ہیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ جو ڈاکٹر پی ایم ڈی سی سے رجسٹرڈ تھے انکی ڈگری ضائع ہو گئی۔ اس اقدام سے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی چاندی ہوگئی۔ پی ایم ڈی سی میں نیا ادارہ بنانے کے بعد صوبوں کی نمائندگی بھی ختم ہوگئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس ایشو کو زیر بحث نہیں لایا جارہا۔

اس طرح کے اقدامات سے واضح کردیں کہ کہ ملک میں آمریت ہے جمہوریت نہیں ہے۔ اللہ تعالی اس حکومت کو عقل دے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ مولانا کے دھرنے سے سیاسی فائدہ کسی اور کو ہو رہا ہے۔ جو پیش گوئی ہوئی تھیں نواز شریف کی پلیٹ لیٹس گرنے کے بعد کہ وہ باہر بھیج دیئے جائیں گے۔ نواز شریف کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں انکا علاج پہلے کیوں نہیں کرایا گیا۔

آصف زرداری کے بارے میں کہا جارہا ہے انکی صحت نواز شریف سے زیادہ خراب ہے۔ نواز شریف کے فیصلے پر عدلیہ پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم کے استعفیٰ کے معاملے پر نظر ثانی کریں۔ مولانا کے دیگر مطالبات کو ماننا چاہیے۔ الیکشن میں مجھ سمیت جس کے حلقے میں بھی دھاندلی کی شکایت کی گئیں وہاں دوبارہ انتخابات ہونا چاہیے۔

مولانا، اپوزیشن اور میرے حلقے دوبارہ کھولیں جائیں۔ وزیر اعظم نے کراچی کے لئے 162 ارب کا اعلان کیا وہ ایک کھلواڑ کیا۔ ابھی تو وزیر اعظم اپنا وعدہ وفا نہ کر سکے۔ حکومت سندھ سے مجھے توقع نہیں کہ وہ کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج کے پیسے کے ایم سی کو دیے گی۔ پیپلز پارٹی سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ وسیم اختر اپنی توجہ کسی اور طرف سے ہٹا کر اگر کراچی کے مسائل پر توجہ دیں تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

کرتارپور راہداری افتتاح کے موقع پر وزیراعظم کی حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ لیکن غیر ملکیوں کی پاکستان امد میں نرمی سے ملکی سلامتی پر کوئی انج نہیں آنا چاہیے۔ کشمیر ایشو پر بھارت کے ساتھ سخت الفاظ میں بات کرنی چاہیے۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینئر عامر خان نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ کرتارپور راہداری کھولنا حکومت پاکستان کی جانب سے اچھا اقدام ہے۔

اس اقدام سے سکھ یاتری اپنے مقدس مقام کی زیارت کر سکیں گے۔ اسی طرح پاکستانیوں کے بھی عزیر و اقارب بھارت میں موجود ہیں حکومت پاکستان انکے لئے بھی بھارت جانے پر آسانیاں پیدا کرے۔ عامر خان نے کہا کہ سکھ یاتریوں کے پاکستان آنے پر ملکی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں۔ ہماری ملکی ایجنسیز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یاتریوں کی مکمل نقل و حرکت پر نظر رکھیں گے۔

بھارت نے جو کشمیر میں ظلم وستم مجا رکھا ہے اقوام متحدہ کو اس پر ایکشن لینا چاہئے۔ پاکستانی حکومت اور عوام ہر وقت کشمیر اور کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ عامر خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے لئے قابل احترام ہیں۔ لگتا ہے مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کے مقاصد حاصل کر رہے۔ احتساب کا عمل سب کے لئے یکساں ہونا چاہیے۔ جس کسی نے بھی غلط کام کیا ہو اس کیخلاف ایکشن ہونا چاہیے۔

یہ تاثر نہ جائے کہ حکومت یا حکومتی اتحادیوں کو ریلیف مل رہا ہے اور اپوزیشن کیخلاف زیادتی ہورہی ہے۔ دھرنوں کے باعث حکومت کی تبدیلی کی روایت پڑنا پاکستان کے حق میں ہرگز بہتر نہیں ہوگی۔ عامر خان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان دھرنے سے متعلق حکومتی کمیٹی کے مابین ہونے والے معاہدے کی پاسداری کررہے ہیں جو قابل ستائش ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو دھرنے کا حل مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔

ہر بار الیکشن کے نظام اور دھاندلی پر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے الیکشن کے نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ مردم شماری اور حلقہ بندیوں میں جو زیادتی ہوئی ہے اسکا بھی ازالہ کیا جائے۔ سینئر ڈپٹی کنوینئر عامر خان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج سرحدوں کی محافظ ہے،اس وقت ہماری فوج اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ جو چیزیں ہماری مسلح افواج کی امیچ کو متاثر کر رہی ہے،مسلح افواج کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ختم سے متعلق تازہ ترین معلومات