پیپلزپارٹی کی ضلعی قیادت اور نئے شامل ہونے والے شیرازی گروپ کے درمیان اختلافات کھل کرسامنے آگئے

ہفتہ نومبر 18:35

سجاول(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 نومبر2019ء) سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی میں ضلع سجاول کی ضلعی قیادت اور نئے شامل ہونے والے شیرازی گروپ کے درمیان اختلافات کھل کرسامنے آگئے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف محاذارائی شروع کردی گئی ہے۔سابقہ سندہ حکومت میں سجاول ضلع کے پی پی صدر محمد علی ملکانی کو وزارت جبکہ جنرل سیکریٹری ریحانہ لغاری کو وزیراعلیٰ کا معاون کاعہدہ دیاگیاتھا، تاہم الیکشن سے قبل مقامی کارکنوں کے احتجاج کے باوجود شیرازی گروپ کو پی پی میں شامل کرکے انہیں پارٹی ٹکٹ دیے گئے اور شیرازی گروپ کے ایک ایم این اے اور ایک ایم پی اے سجاول سے منتخب ہوئے ہیں،حال ہی میں شیرازی گروپ کے سربراہ اعجازعلی شاہ کو وزیراعلیٰ کامعاون بھی مقرر کیاگیاہے، جبکہ پی پی کے ضلعی صدر سجاول محمد علی ملکانی ایم پی اے منتخب ہوئے لیکن حکومت میں ان کو کوئی حصہ نہ مل سکاہے،ضلعی جنرل سیکرٹری ریحانہ لغاری کو مخصوص سیٹ سے ایم پی اے منتخب ہونے پر سندہ اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکرمنتخب کرلیاگیاہے اور ایک مخصوص خواتین سیٹ پر ہیرسوھوکو منتخب کیاگیاہے، ضلع سجاول میں حکمران جماعت کے دونوں دھڑوں میں اختلافات پائے جاتے تھے تاہم شیرازی گروپ کی فرمائش پر ضلع میں من پسند افسران کی تقرری پر دونوں دھڑوں میں محاذآرائی کا آغاز ہوگیاہے، سجاول میں پی پی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکرسندہ اسمبلی اور ضلعی جنرل سیکریٹری ریحانہ لغاری نے الزام عائدکیاکہ اس کے گائوں کے راستے پر محترمہ بینظیراور بلاول کے پینافلیکس لگوانے پر شیرازی گروپ نے اس کے خلاف سول سوٹ دائرکروایاجس کا اسے نوٹس ملاہے، اس اجلاس میں ضلعی صدرایم پی اے محمد علی ملکانی نے بھی شیرازی گروپ کے ارکان اسمبلی کی پارٹی اجلاسوں میں غیرحاضری پر برہمی کا اظہارکیا،اور نوٹس دینے کاعندیہ دیا، اس کے جواب مین شیرازی گروپ کے ایم این اے ایاز شیرازی نے ڈپٹی اسپیکرکو سستی شہرت حاصل کرنے کا طعنہ دیتے ہوئے کہاکہ پینافلیکس معاملے سے ان کاکوئی تعلق نہیں ہے۔

(جاری ہے)

بعدازاں پی پی کی ضلعی قیادت کی جانب سے دڑو کے قریب جلسہ اور بٹھورو میں بھی شیرازی گروپ پر شدید تنقید کی گئی اور ایم پی اے ہیرسوھو نے الزام عائدکیاکہ شیرازی گروپ اپنی مرضی سے بیوروکریسی تعینات کرارہاہے اور ان کے عزیزواقارب کو بھی نشانہ بنایاجارہاہے، پینافلیکس معاملے پر پانچ نومبرکوسول کورٹ میں پیشی پر ڈپٹی اسپیکرسندہ اسمبلی اور دیگرپارٹی رہنمابھی موجودتھے انہوں نے کہاکہ بینظیربھٹواور بلاول عوام کے دلوں میں بستے ہیں ان کے پینافلیکس کو ہٹاناعوام کے دلوں کو ٹھیس پہنچانے کے برابر ہے،مخالفین کی ایسی اوچھی حرکتوں سے عوام کی محبت کم نہیں ہوگی، پہلے بھی ہم مقدمات بگھت چکے ہیں اب بھی ھرقربانی کے لئے تیارہیں، پینافلیکس معاملے پر عدالت تئیس نومبرکو سماعت کرے گی۔

ضلع سجاول میں حکمران جماعت کے درمیان دھڑے بندی اور اختلافات کی وجہ سے ضلع بھرمیں سرکاری امور ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں اور ایک دھڑے کے مقرر کرائے گئے افسران پریشانی کاشکارہیں سب سے زیادہ اثر عوام پر پڑاہے،ضلع بھرمیں چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں چارسو فیصد تک اضافہ ہوگیاہے، سبزی اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان تک پہونچ گئی ہیں۔

جعلی ادویات اور اتائیوں کی بھرمارہے، صفائی کاناقص نظام اور ترقیاتی کام بندہیں، مہنگائی اور بیروزگاری سے جرائم میں اضافہ ہوگیاہے،جعلی ادویات اور کھاد کی اضافی قیمتوں اور فصلوں کی کم قیمت ملنے سے کسان منافع خور اور سودخوروں سے لٹ رہے ہیں۔منشیات کا عام نوجوان شکارہورہاہے، مجموعی طورعلاقہ میں افسران اور محکموں کی کارکردگی مفلوج ہونے سے عوام متاثرہیں،اور کوئی کام بغیررشوت کے نہیں ہورہاہے، مقامی عوام نے مطالبہ کیاہے کہ سیاسی اختلافات کی بناء پر مفلوج محکموں کو فعال کیاجائے اور تمام محکموں کومیرٹ پر کام کرنے کاپابندبنایاجائے اور علاقے میں چیک اینڈ بیلنس قائم کرکے عوام کو رلیف دیاجائے۔

واضع رہے کہ ضلع سجاول کا قیام دوہزار تیرہ میں قائم علی شاہ کے دور میں ہواتھا،اور الیکشن میں پی پی مخالف شیرازی گروپ نے ضلع کی دو ایم پی اے اور ایک ایم این اے کی سیٹ جیتی تھی تاہم شیرازی گروپ کے ایم پی اے محمد علی ملکانی کو پی پی میں شمولیت کرنے پر نہ صرف وزارت دی گئی بلکہ پی پی کا ضلعی صدر بناکراسے پورا سجاول ضلع حوالے کیاگیا،دوہزاراٹھارہ میں الیکشن سے قبل شیرازی گروپ کو پارٹی میں شامل کرکے پارٹی ٹکٹ دئے گئے اور نئی حکومت میں انہیں حکومت میں عہدے دیکر سجاول ضلع ان کے حوالے کیاگیاہے جس پر پرانے جیالے خفاہیں۔

سجاول ضلع میں چھ سال سے ضلعی انفرااسٹرکچر مکمل نہیں کیاجاسکاہے اور تاحال ضلعی انتظام گڑبڑہے ضلع کے قیام سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہونچ سکاہے بلکہ اسے صرف سیاسی رشوت کے طورپر استعمال کیاگیاہے، مقامی عوام نے ضلع سجاول کے قیام سے ابتک تمام محکموں کو ملنے والی بجٹ اور فنڈز کی تحقیقات کا مطالبہ کیاہے۔