مقبوضہ کشمیر ایک وسیع انسانی قیدخانہ بن چکا ہے، سردار مسعود خان

بابری مسجد سے متعلق بھارتی عدالت کا غیر منصفانہ فیصلہ مسئلہٴ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کی سازش ہے صدر آزاد جموں کشمیر ، عطا الرحمن، اقبال چوہدری و دیگر کا ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں اختتامی تقریب سے خطاب

ہفتہ نومبر 19:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 نومبر2019ء) آزاد جموں کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بابری مسجد سے متعلق بھارتی عدالت کے غیر منصفانہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد پر بھارتی عدالت کا غیر منصفانہ فیصلہ مسئلہٴ کشمیر سے عالمی برادری اور میڈیا کی توجہ ہٹانے کی گھناونی سازش ہے، مقبوضہ کشمیر ایک وسیع انسانی قیدخانہ بن چکا ہے جہاں انسانوں پر مظالم عام بات ہے۔

یہ بات انھوں نے ہفتہ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیور میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جامعہ کراچی کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی میں ’’جلدی مرض لشمانیاس‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔

(جاری ہے)

اس ورکشاپ میں20ممالک کے سائنسدان اور محققیں شریک ہوئے، جس کا انعقادڈاکٹر پنجوانی سینٹر اور نظرانداز کی گئیں ٹروپیکل بیماریوں کے لیے برطانیہ میں قائم نیٹ ورک یعنی این ٹی ڈی نیٹ ورک کے تعاون سے ہوا۔

تقریب سے وزیر اعظم کی نیشنل ٹاسک فورس برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن، کراچی میں انڈونیشیا کے کونسل جنرل کوٹوکو پرانامت، بین الاقوامی مرکز کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، این ٹی ڈی کے برطانوی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر پاول ڈبلیو ڈینی، برازیل کی پروفیسر ڈاکٹربارٹیرا روزی برگمین سمیت ڈاکٹرثمر یوسف نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سردار مسعود خان نے کہا بابری مسجد سے متعلق بھارتی عدالت کا ہندؤوں کے حق میں فیصلہ نسلی و مذہبی تعصبات پر مبنی ہے جو ہندوستان میں دو بڑے مذاہب اور تہذیبوں کو لڑانے کی سازش ہے، یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے گی، انھوں نے کہا ستانوے روز گزر چکے ہیں مگر مقبوضہ کشمیر ابھی تک جیل کی صورت میں ہے جس سے وہاں مایوسی، غم و غصہ کو تقویت مل رہی ہے، انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

سائینس اور تعلیم کے متعلق انھوں کہا کہ سائینس انسانی بہبود ہی کے لیے استعمال ہونی چاہیے، انھوں نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے پروفیسر عطاالرحمن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کشمیر میں پانچ جامعات اور سو سے زیادہ کالجز ہیں، انھوںنے کشمیری اعلیٰ تعلیمی اداروں اور بین الاقوامی مرکز کے درمیان تعلیمی اور تحقیقی تعاون اور تعلق کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پروفیسر عطا الرحمن نے کہا حکومت نے سائینس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے دوسو بلین روپے مختص کیے ہیں، اس کے برعکس متعدد میگا پروجیکٹس ملک میں تعلیم، سائینس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے شروع کیے ہیں، انھوں نے کہا کہ کشمیری اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بھی آگے آنا چاہیے اور حکومتی پالیسیوں سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ انڈونیشیا کے کونسل جنرل کوٹوکو پرانامت نے کہا پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوستانہ تعلقات انتہائی مستحکم ہیں۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے تقریب میں سردار مسعود خان کو بین الاقوامی مرکز کی کارکردگی کے متعلق تفصیلی پریزینٹیشن دی۔ پروفیسر ڈاکٹر پاول ڈبلیو ڈینی نے کہا این ٹی ڈی پروگرام غریب ممالک سے مخصوص امراض کے خاتمے کے لیے سرگرم ہے جن میں بالخصوس لشمانیاس اور چغاس شامل ہیں۔