حالیہ برسوں میں گاجر بوٹی کا موثر تدارک نہ کیا گیا تو الرجی‘ خارش‘ دمہ اور چنبل کی بیماریوں میں ہوشربا اضافہ ہوجائے گا، زرعی ماہرین

ہفتہ نومبر 19:12

فیصل آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 نومبر2019ء) جامعہ زرعیہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ برسوں میںگاجر بوٹی کا اگر موثر تدارک نہ کیا گیا تو ملک کی دیہی و شہری آبادی میں الرجی‘ خارش‘ دمہ اور چنبل کی بیماریوں میں ہوشربا اضافہ ہوجائے گا جو قومی ترقی کی شرح نمو میں کمی کا باعث بنے گا۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین اس قبضہ مافیا بوٹی کے موثر انسداد کیلئے سب سے پہلے میدان عمل میں اُتر چکے ہیں اور پورے ملک میں اپنی آئوٹ ریچ سرگرمیوں میں تیزی لاتے ہوئے گلی گلی قریہ قریہ اس کی روک تھام کیلئے آگاہی پروگرام کر رہے ہیںجویقیناً نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔

اس حوالے سے ایک زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل ایکسٹینشن و رورل ڈویلپمنٹ اور کیبی کے اشتراک سے آگاہی سیمینار سرگودھا روڈ پر ارفع کریم رندھاوا کے گائوں چک نمبر4رام دیوالی میں منعقد کیاگیاجس کے مہمان خصوصی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اشرف (ہلال امتیاز) تھے۔

(جاری ہے)

اپنے خطاب میں ڈاکٹر محمد اشرف نے توقع ظاہر کی کہ جس طرح اس گائوں کی بیٹی ارفع کریم رندھاوا نے اپنی آئی ٹی صلاحیتیوں سے ملک اور گائوں کو پوری دنیا میں متعارف کروایا اسی طرح گائوں کے لوگ بہترین تنظیم سازی کے ذریعے گائوں کو گاجر بوٹی کے پائیدار و موثر خاتمے کے حوالے سے ایسا ماڈل بنائیں گے کہ جس کی دوسرے اضلاع اور دیہاتوں میں مثال دی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی زیرقیادت یونیورسٹی ماہرین تحقیقاتی لیبارٹریوں سے نکل کر کاشتکاروں تک پہنچ رہے ہیں تاکہ اپنے علم و مشاہدے کی بنیاد پر سامنے آنیوالی ٹیکنالوجی کو کسانوں تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ چند دن پہلے انہیں رجوعہ سادات میں چاول کی براہ راست بوائی کے ایک ماڈل فارم پر جانے کا موقع ملا جہاں یونیورسٹی ماہرین مقامی کاشتکاروں کو چاول کی پنیری کے بجائے ڈائریکٹ سیڈنگ کی ٹیکنالوجی سے آگاہ کر رہے تھے جس سے پانی کی 40فیصد بچت اور کھیت میں پودوں کی تعداد پوری ہونے سے پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری مقامی جڑی بوٹیوں کے مقابلے میں گاجر بوٹی بھرپور قوت مدافعت کی حامل ہے جوکم وقت میں پروان چڑھتے ہوئے تیزی سے پھیل رہی ہے جس سے جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کو بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل قریب میں یونیورسٹی کے کسان میلے کو نئے انداز سے منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں کسانوں تک قابل عمل‘ سستی اور آسان ٹیکنالوجی پہنچائیں گے۔

پروگرام کے فوکل پرسن ڈاکٹر اعجاز اشرف نے انکشاف کیا کہ حالیہ برسوں کے دران اسلام آباد کے الرجی سینٹر کے ساتھ ساتھ شہر کے الائیڈ ہسپتال میں الرجی ‘ خارش کے مریضو ں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے جس کی بڑی وجہ زہریلے کیمیکلز کی حامل گاجر بوٹی کی جانوروں کی خوراک اور حکمیوں کی طرف سے انسانی ادویات میں اس کا بڑھتا ہوا استعمال ہے لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ اسے جڑ سے اکھاڑ کر زمین میں دبادینا ہی اس کا موثر تدارک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہرچند گاجر بوٹی بیماری اور غربت اپنے ساتھ لیکر جاتی ہے اور جہاں پنجے گاڑھ لیتی ہے بڑی تیزی سے اپنی آبادی میں اضافہ کرلیتی ہے تاہم آسٹریلیا نے اس کے موثر تدارک کیلئے ایسے کیڑے متعارف کروائے ہیں جو اس بوٹی کو کم وقت میں کھا کر ختم کر دیتے ہیں لیکن وہ سال میں صرف دو ماہ یہ کام کرپاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت سے ہوا کے ذریعے ایسے کیڑے پاکستان میں بھی داخل ہوچکے ہیں جو اس کے خاتمے کیلئے بڑے موثر ہوسکتے ہیںتاہم کیبی بھی جلد ایسے کیڑے پاکستانی کھیتوں میں چھوڑے گا جو سال میں آٹھ دس مہینے اس گاجر بوٹی کے خاتمے کیلئے ہماری مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہرچند پاکستانی معاشرے میں تنظیم سازی ایک انتہائی مشکل کام ہے تاہم اگر اس طرح گائوں کے لوگ منظم ہوکر کسی مہم کو آگے بڑھائیں تو اس کی کامیابی یقینی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے کاشتکار لاعلمی میں کھیت میں روٹا ویٹر کے استعمال سے اس کے پودوں اور بیج کو زمین میں دفن کر رہے ہیں جس کی وجہ سے کھیت میں فصل کے پودوں کی تعداد اور پیداوار نئے مسائل کا شکار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گاجر بوٹی جانوروں کیلئے زہریلے اثرات رکھتی ہے کیونکہ اس میں پائے جانیوالے زہریلے مادے جانوروں کے منہ پر الرجی اور بھوک کو کم کردیتے ہیں جس سے جانوروں کے دودھ اور گوشت کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔ کیبی کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالرحمن نے کہا کہ گاجر بوٹی ہرگزمقامی جڑی بوٹی نہیں ہے یہ 2005ء میں امریکہ و میکسکو سے برصغیر میں پہنچی جس نے بہت کم وقت میں پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیااور وہ خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس کی موثر روک تھام اور انسداد نہ کیا گیا تو یہ اگلے دس برسوں میں اپنی خطرناک شکل میں انسانی اور حیوانی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کئی ممالک نے اس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے قانون سازی بھی کی ہے جس میں اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والوں کیلئے پرکشش امدادی پیکیج بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایاکہ چونکہ گاجر بوٹی اپنے اردگرد بوئی جانیوالی کسی بھی فصل کے بیجوں کی چالیس فیصد تک بوائی کو کم کردیتی ہے اس طرح اس کی پیداوار میں بھی اسی تناسب سے کمی کا باعث بنتی ہے لہٰذاکھیت کے کناروں اور کھیت سے اس کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر گاجر بوٹی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ایک سال کے دوران 1.4کھرب ڈالر نقصان یا عالمی جی ڈی پی کو 5فیصد کمی کا سامنا ہے۔ سیمینار سے ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر محمود رندھاوا‘ چوہدری احمد نواز رندھاوا اور انجینئر عظیم رندھاوا نے اپنے خطاب میں گاجر بوٹی کے خاتمے کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے اور اس پیغام کو پورے گائوں تک لیجانے کے عزم کا اظہار کیا۔