عقیدہٴ ختم نبوت امت مسلمہ کی شہ رگ ہے،مقررین

ہفتہ نومبر 20:27

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 نومبر2019ء) مجلس احراراسلام پاکستان اورتحریک تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام قائد احرارسیدعطاء المہیمن بخاری کی زیرسرپرستی جامع مسجد احرارچناب نگر میں دو روزہ سالانہ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘گزشتہ روز شروع ہوگئی ،ابتدائی نشستوں کے مقررین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ عقیدہٴ ختم نبوت امت مسلمہ کی شہ رگ ہے اس عقیدے کے تحفظ کے لیے جنگ یمامہ سے لیکر 1953ء کی تحریک ختم نبوت تک ہزاروں نفوس قدسیہ نے اپنے مقدس خون سی اس عقیدے کی آبیاری کی اورقربانیوں کایہ سلسلہ جاری ہے ،جوقیامت تک جاری رہے گا کہ اسی میں بقاء کاراز مضمرہے ،علماء کرام اوردینی رہنمائوںنے کہاکہ اسلام کے عدم نفاذ نے قیام ملک کی منزل دورکردی ہے اوریہ سب کچھ بانئ پاکستان کے افکار ونظریات کی نفی ہے ،وطن عزیز کو استعمار ی قوتوں کا کھلواڑبناد یاگیاہے اورسیاسی انتہاء پسندی نے ملکی معیشت تباہ کرکے ،اسلامی نظریے اوروقار کوبہت نقصان پہنچایاہے ،مقررین نے کہاکہ فتنہٴ قادیانیت کو حکمرانوں اورسیاستدانوںنے پنپنے کے مواقع فراہم کیے اورربوہ کو باقاعدہ پرموٹ کیاجارہاہے تاکہ جہاد کی نفی ہولیکن جہاد تو قیامت تک جاری رہے گا ۔

(جاری ہے)

مجلس احراراسلام پاکستان کے نائب امیرسید محمدکفیل بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آزادی مارچ کے مطالبات پرتوجہ نہ دی گئی توملک میں افراتفری پھیلے گی جس سے قادیانیوں سمیت ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھائیںگے ۔انہوں نے کہاکہ شہداء ختم نبوت کی روحیں ہم سے مطالبہ کررہی ہیں کہ ہم مکمل اورخالص اسلامی نظام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ۔انہوںنے کہاکہ ربوہ برانڈارتداد کا راستہ روکناہمارے ایمان کی بنیاد ہے اور اس بنیاد کے لیے ہم مال وجان سمیت ہرقربانی کے لیے تیار ہیں ،مجلس احراراسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالدچیمہ نے کہاکہ مرزاغلام احمد قادیانی کی امت مرتدہ اورفتنہ مرزائیہ ،دہشت گردی کی عالمی تنظیم ہے جو اسلام کا عنوان استعمال کرکے دنیا کو دھوکہ دے رہی ہے ۔

انہوںنے کہاکہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے ،تحفظ ختم نبوت اورتحفظ ناموس رسالت ﷺ جیسے قوانین پرعمل درآمد نہیں کررہے ہیں جس سے کشیدگی پیداہورہی ہے ۔مفتی عطاء الرحمن قریشی ،مولاناتنویرالحسن احرار،مولانا محمدمغیرہ،مولانا فیصل متین سرگانہ،مولانا محمد سرفرازمعاویہ ،مولانا وقاص حیدر،میاں محمد اویس،مفتی محمد سعدرضوی،حکیم حافظ محمد قاسم ،حافظ محمد طیب سمیت کئی دیگر رہنمائوں نے شرکت وخطاب کیا،بعد نماز عصرخطیب جامع مسجد احرارمولانا محمدمغیرہ ،مولانا تنویرالحسن اور ڈاکٹر محمد آصف نے سوال وجواب کی نشست میںسوالوں کے جوابات دیئے اورکہاکہ اسلام اور قادیانیت کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ۔

انہوں نے کہاکہ یہ فتنہ مرزائیہ جناب نبی کریم ﷺ کے بعد نئی نبوت کے اجراء کا قائل ہے جس کے لیے مرزاغلام احمد قادیانی نے بتدریج کئی دعوے کیے۔بارہ سوصحابہ کرام ؓؓ شہید ہوگئے اوراکابراحراروختم نبوت نے پوری زندگیاںمنکرین ختم نبوت کی ریشہ دوانیوں کے سدباب کے لیے گزاردیں،کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی سے حدود پشاور تک کے قافلے دن رات پہنچ رہے ہیں ربوہ کی فضا ختم نبوت زندہ بادکے نعروں سے گونج رہی ہے ۔

سرخ پوشان احرارنے سیکورٹی کے سخت انتظامات کررکھے ہیں ،کانفرنس آج (اتوار)کوبھی جاری رہے گی بعد نماز فجر درس قرآن کریم ہوگا،نوبجے صبح پرچم کشائی کی پرشکوہ تقریب ہوگی ۔دس بجے تانماز ظہرملک بھر سے آئے ہوئے علماء کرام ،دینی رہنماو مشائخ عظام ،احرار رہنما،دانشور،وکلاء ،صحافی اورطالب علم رہنماشرکت وخطاب کریںگے جبکہ بعد نمازظہر جامع مسجد احرارچناب نگرسے فرزندان اسلام ،مجاہدین ختم نبوت اورسرخ پوشان احرارفقیدالمثال دعوتی جلوس نکالیں گے ،پہلاپڑائو اقصیٰ چوک ہوگا جبکہ قادیانی مرکز ’’ ایوان محمود‘‘کے سامنے قائدین احرار ،زعماء ملت قادیانیوںکودعوت اسلام کا فریضہ دہرائیں گے نیزتحریک ختم نبوت کے مطالبات بھی پیش کیے جائیں جبکہ قراردادیں پریس کو جاری کی جائیں گی،جلوس لاری اڈاچناب نگر پر جاکر دعا کے ساتھ اختتام پذیرہوگا