بھارت میں مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لئے زمین تنگ کر دی گئی

بابری مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کا فیصلہ سیکولرازم کا قتل اورتعصب کی بدترین مثال ہے، ڈاکٹر عبدالغفور راشد

ہفتہ نومبر 20:27

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 نومبر2019ء) پاکستان یونائیٹڈ کونسل کے چیئرمین اور ناظم ذیلی تنظیمات مرکزی جمعیت اہلحدیث ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کا فیصلہ انتہائی افسوسناک ،باہمی مذہبی احترام، سیکولرازم اورانصاف کا قتل اورتعصب کی بدترین مثال ہے ۔بھارت ایسا ملک بن چکا ہے جہاں اقلیتوں کیلئے سانس لینا مشکل ہو چکا ہے جبکہ عالمی قوانین کے مطابق ہر ملک میں بسنے والے کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو ان کے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کا بنیادی شہری حق ہے لیکن بھارت ایسا متعصب ملک ہے کہ جہاں مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروںکے لئے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔

انہوں نے عالمی ضمیر کو متوجہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ہندوستان میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے پر بھارتی ہندو خوشیاںمنا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان میں کرتار بارڈر کھلنے پر سکھ خوشی منا رہے ہیں لیکن مسلمانوں کی عزت نفس کو مجروع کیا جا رہا ہے اور افسوسناک اور شرمناک بات یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان بیدار نہیں اور ایسی پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں جن میں عزت اور غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر کرفیو لگا کر انہیں 3 ماہ سے زائد عرصہ سے قید کر دیا گیا ہے اور مسلمانوں کی غیرت کو للکارا جارہا ہے، خواتین کی بے حرمتی اور نوجوانوں کاقتل جاری ہے۔جبکہ ابھی تک حکومت پاکستان نے بھی کوئی سخت موقف اختیار نہیں کیا ،جو قوم کی ترجمانی کرتا ہو۔جبکہ افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ عمران خان کی حکومت بھارت اور دنیا بھر کے سکھوں کی خوشنودی کے لئے کرتار پور بارڈر پر انہیں سہولیات دینے میں مصروف ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ملک میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے اس پر حکومت کے پاس کوئی ٹھوس موقف نہیں ہی