خان صاحب! کرتارپور کی خوشخبری آپ نے نہیں،جنرل باجوہ نے سدھو کو دی

آپ کے وزیراعظم کا حلف اٹھانے سے پہلے کرتارپورراہداری کی خوشخبری آرمی چیف نے سدھو کے کان میں دی تھی،آپ اپنا ریکارڈ درست کرلیں۔ سینئر تجزیہ کار ماروی سرمد کا ٹویٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ نومبر 20:19

خان صاحب! کرتارپور کی خوشخبری آپ نے نہیں،جنرل باجوہ نے سدھو کو دی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 نومبر2019ء) تجزیہ کار ماروی سرمد نے کہا ہے کہ عمران خان صاحب! کرتار پورراہداری کی خوشخبری جنرل باجوہ نے سدھو کو دی تھی، آپ کے وزیراعظم بننے اور حلف اٹھانے سے پہلے یہ کرتار پورراہداری کی کھولنے کی خوشخبری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سدھو کے کان میں دی تھی۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ عمران خان آپ ایسا نہ کریں، آپ اپنا ریکارڈ درست کریں۔

کرتارپور راہداری کی کھولنے کی خوشخبری آپ نے نہیں بلکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سدھو کے کان میں دی تھی۔
واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے آج کرتارپور راہداری تقریب کی افتتاحی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سدھو نے مجھے کہا تھا کہ یہ بارڈر کھول دیں۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم عمران خان نے کرتا پور راہداری کا باضابطہ افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بابا گرو نانک دیو جی کی 550ویں سالگرہ پر تمام سکھ برادری کو مبارکباد دی اور انہیں کرتار پور آمد پر خوش آمدید کہا۔

وزیر اعظم نے انتہائی کم عرصہ یعنی دس مہینوں میں کرتار پور کا سارا کمپلیکس اور پل تعمیر کرنے پر ایف ڈبلیو او سمیت تمام حکام کو خراج تحسین پیش کیا اور انکی کارکردگی کو سراہا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسلہ کشمیر کا ہے اگر یہ مسئلہ حل ہو گیا تو پورا برصغیر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اور برصغیر کے کروڑوں افراد کا بھلا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے کہا تھا کہ اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو پورا برصغیر ترقی کے لحاظ سے بہت آگے جا سکتا ہے اور یہی بات میں نے وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے بھی کہی اور انہیں مذاکرات کی دعوت دی۔لیکن آج مسئلہ کشمیر علاقائی مسئلے سے بھی آگے جا چکا ہے۔

نو لاکھ بھارتی فورسز نے 80لاکھ سے زائد کشمیریوں کو یرغمال بنایا ہے۔عمران خان نے کہا کہ یہ محض زمین کا معاملہ نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے ،مقبوضة کشمیر میں انسانوں سے جانوروں کی طرح سلوک کیا جارہا ہے اور اسے مسئلے سے ہمارے تعلقات رک گئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ مودی کیلئے یہ پیغام ہے کہ انصاف سے امن اور ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم مسئلہ کشمیر حل کر کے برصغیر کو خوشحالی اور ترقی سے ہمکنار کرا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر سرحدیں کھل جاتی ہیں، تجارتی اور اقتصادی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں تو سوچ لیں اس خطے میں کتنی خوشحالی آئیگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ فرانس اور جرمنی نے کتنی جنگیں لڑیں لیکن آج انکے تعلقات بحال ہیں،دونوں ملکوں کے عوام خوشحال اور سرحدیں کھلی ہیں اور جب کشمیر کے عوام کو اپنے حقوق مل جائیںگے تو اس خطے میں بھی خوشحالی آئیگی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالی رب العالمین ہے،تمام انسانوں کیلئے۔ہمارے پیغمبر حضرت محمدؐ بھی رحمت للعالمین تھے۔جو بھی پیغمیر اس دنیا میں آئے انہوں نے انسانیت اور انصاف کا درس دیا۔اور یہ دو چیزیں انسانی معاشرے کو جانوروں سے الگ کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بابا گرو نانگ گرو جی کے فلسفے میں بھی یہ دو چیزں نظر آتی ہیں۔گرو نانک نے بھی انسانیت،انصاف اور رواداری کا درس دیا۔برصغیر میں عظیم صوفی بزرگ بابا فرید، نظام الدین اولیا اور معین الدین چشتی گزرے ہیں۔انہوں نے بھی انسانیت اور انصاف کا درس دیا ہے۔