عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی بے حسی کے باوجود مسئلہ کشمیر ایک حقیقت ہے جس سے نظریں چرانا ممکن نہیں،صدر آزاد کشمیر

عالمی برادری مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ناکام ہو گئی تو کشمیری ایک بار پھر بندوق اٹھانے پر مجبور ہونگے جو خطہ اور خودبھارت کیلئے تباہ کن ہو گا،سردار مسعود خان کشمیری ی گزشتہ دو سو سال سے آزادی اور اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں ،ان کا عزم ہے آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد کو کامیابی کے حصول تک جاری رکھیں گے، خطاب

بدھ نومبر 17:04

عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی بے حسی کے باوجود مسئلہ کشمیر ایک حقیقت ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 نومبر2019ء) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے خبر دار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق پرامن سیاسی ذرائع سے حل کرنے میں ناکام ہو گئی تو کشمیری ایک بار پھر بندوق اٹھانے پر مجبور ہونگے جو خطہ اور خودبھارت کے لئے تباہ کن ہو گا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی بے حسی کے باوجود مسئلہ کشمیر ایک حقیقت ہے جس سے نظریں چرانا ممکن نہیں۔

اسلام آباد میں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام ’’جنوبی ایشیا ، مشرق وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیا میں امن و ترقی‘‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ کشمیری گزشتہ دو سو سال سے آزادی اور اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کا یہ عزم ہے کہ تمام تر مسائل و مشکلات کے باوجود وہ آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد کو کامیابی کے حصول تک جاری رکھیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بھارت اس کو تنازعہ تسلیم نہیں کرتا جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ ہے جس کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کئی قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود دنیا کے بڑے اور بااثر ممالک اپنے سیاسی و معاشی مفادات کی وجہ سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے مظالم اور تنازعہ کشمیر کو طاقت سے حل کرنے کی پالیسی کے خلاف بولنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ یورپ اور شمالی امریکہ کی حکومتیں بھارت کی کشمیر پالیسی کی مذمت کرنے کے بجائے اس کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف ہیں اور اس اعتبار سے یہ بھارت کی بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی موجودہ بی جے پی حکومت نے اپنا جو ایجنڈا ترتیب دیا ہے وہ کشمیر سے کہیں آگے ہے۔ بھارتی حکومت نے نہ صرف مقبوضہ ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا بلکہ اس نے دفعہ 35-Aکے اختتام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیری ہندوئوں کو آباد کر کے مقبوضہ ریاست کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کے ان تمام اقدامات کا مقصد ریاست جموں وکشمیر کی اسلامی شناخت کو ختم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے یہ اقدامات نہ صرف پاکستان کے ساتھ اس کی کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں بلکہ دونوں ملکوں کو ایک تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے اندر یہ احساس اور سوچ بھی تقویت پکڑ رہی ہے کہ انہیں اپنی آزادی اور حق خودارادیت کی جنگ خود لڑنی ہے اور اپنی تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لے کر ایک طویل جدوجہد کرنی ہے۔

صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور سلامتی کونسل کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین ترین صورتحال کے باوجود سلامتی کونسل اپنا ایک اجلاس بلانے کے بعد خاموش ہو گئی ہے جبکہ انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر اپنی دو رپورٹس جاری کرنے کے باوجود وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی اس بے حسی کے باوجود پاکستان کے لئے اب بھی بہتر اور قابل عمل آپشن بین الاقوامی برادری کو مسلسل متوجہ کر کے اس کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عالمی سول سوسائٹی اور خود بھارت کی سول سوسائٹی تک رسائی حاصل کر کے ان کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔